08:43 am
پنجاب کے وزراء بنام صوبائی انتظامیہ

پنجاب کے وزراء بنام صوبائی انتظامیہ

08:43 am

٭وزیراعظم 21 اپریل ایران،27 اپریل، چین جائیں گے O پنجاب کے وزرا کے وزیراعظم کے سامنے انتظامیہ پرشدید الزامات Oجلیانوالہ باغ کے المیہ کو 100 سال پورے ہو گئےO حمزہ شہباز نیب کے سامنے، سوالات کے جوابات غیر اطمینان بخش، 16 اپریل کو پھر حاضری O صدر زرداری کے قریبی معتمد ساتھی، کراچی الیکٹرک کے مالک عارف نقوی، ساتھی عبدالودود فریب دہی کیسوں میں لندن اوار امریکہ میں گرفتارO آئی ایم ایف کا مطالبہ منظور، تنخواہ داروں کو ٹیکس کی بارہ لاکھ تک چھوٹ ختمOفضل الرحمان: طبیعت بہتر ہو گئی، گھر واپس۔
 
٭وزیراعظم عمران خان 21 اور22 اپریل کو ایران جائیں گے۔ صدر اور وزیرخارجہ سے ملاقاتیں ہوں گی۔ سرحد کے آر پار دہشتگردی ختم کرنے کے لئے مشترکہ اقدامات کا فیصلہ ہو گا۔سینکڑوں کلو میٹر لمبی سرحد پر باڑ لگانے پر بھی بات ہو گی۔ 27 اپریل کو وزیراعظم چین کا دورہ کریں گے۔ متعدد معاہدے ہوں گے۔
٭وزیراعظم عمران خان جب بھی لاہور آتے ہیں،صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت ضرور کرتے ہیں۔ اس بار پنجاب اسمبلی میں اپنی پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعلیٰ حسب معمول ایک طرف خاموش بیٹھے دیکھتے رہے۔ ان باتوں سے ’’دشمنوں‘‘ نے اندازہ لگایا ہے کہ وزیراعظم صاحب ’’نصیب دشمناں‘‘ عثمان بزدار کی بطور وزیراعلیٰ کارکردگی سے مطمئن نہیں اور کسی وقت سرخ جھنڈی ہلا سکتے ہیں۔ اس بار اہم بات یہ ہوئی کہ اجلاس میں صوبائی وزراء نے صوبائی انتظامیہ کے خلاف سخت الزامات کا ڈھیر لگا دیا کہ صوبے کے افسر وزیروں کو من مانیاں نہیں کرنے دیتے اور ان کے احکام پر عمل نہیں کرتے۔ انتظامیہ کی مجبوری یہ ہے کہ کوئی افسر اپنے اوپر عائد الزام کی وضاحت نہیں کر سکتا جب کہ وزیروں کے منہ کھلے ہوتے ہیں۔ آئین، قانون، سرکاری ضابطے ان کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، کوئی افسر کسی حکم کی تعمیل میں قانونی عذر پیش کر دے تو فوراً معطلی کا حکم! آج کل نیب والے جس طرح ’’پنجے جھاڑ کر‘‘ چھوٹے بڑے افسروں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اس کے باعث سرکاری افسروںکی کارکردگی بہت مدھم ہو گئی ہے۔ وہ فوری اقدامات کی بجائے معاملات کو لٹکانے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ وزیراعظم وزیراعلیٰ اور وزراء کی مسلسل ڈانٹ ڈپٹ اور سخت ایکشن کی دھمکیوں سے تنگ آ کر متعدد اعلیٰ ترین افسروں نے لمبی چھٹیوں کی درخواستیں دینی شروع کر دی ہیں۔ قارئین، تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک خاص بات سامنے آئے گی کہ انگریز حکومت کے دوران ہندوستان بھر میں امن و امان تھا۔ سیاسی تحریکیں اپنی جگہ مگر انتظامی طور پربہت سکون تھا۔اس دور میں ہر ضلع کے حکام حکومت کو اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے تھے۔ ہر ضلع کا سالانہ گزٹ چھپتا تھا اس میں اس ضلع کی مکمل تاریخ، جغرافیائی حدود، سرکاری محکموں اوربلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی تفصیل، ان کے عہدیداروں کے نام (1964ء ضلع نواب شاہ، سب سے چھوٹی یونین کونسل 114، وائس چیئرمین حاکم علی زرداری (باتصویر)، کل سالانہ بجٹ چھ ہزار روپے، تین ہزار ترقیاتی کاموں اور تین ہزارعملے کی تنخواہوں کے لئے…) بات لمبی ہوگئی۔ صرف یہ بات کہ اس وقت پنجاب میں 43 وزیر ہیں۔ کیاان میں کوئی وزیر مکمل یقین کے ساتھ بتا سکتا ہے کہ اس نے پاکستان کا آئین پورا پڑھا ہے؟ کیا اسے معلوم ہے کہ تعزیرات پاکستان اور فوجداری و دیوانی ضابطے کتنے ہیں اور کیا ہیں؟ چلیں صرف یہ بتا دیں کہ وہ جس پارٹی کی طرف سے وزیر بن کر آئے ہیں، اس پارٹی کا پورا منشور پڑھا ہوا ہے؟ اب یاد ہے؟
٭میاں شہباز شریف عدالتوں میں پیشیوں کو چھوڑ کر لندن چلے گئے، بیٹے حمزہ شہباز دو دن تو نیب کے سامنے پیش نہ ہوئے، مگر گزشتہ روز تین گھنٹے پیش ہونا پڑا۔ نیب نے تقریباً 30 سوالات سامنے رکھ دیئے۔ بیشتر کا تعلق آمدنی کے مقابلے میں اثاثوں میں حیرت انگیز اضافہ سے تھا مثلاً یہ کہ 2003ء میں دو کروڑ کے اثاثے 2018ء تک 41 کروڑ کیسے ہو گئے؟ ذرائع کے مطابق حمزہ کا جواب تھا کہ ہمارے مختلف بزنس ہیں۔ وہ ان بزنسوں کی تسلی بخش وضاحت نہیں کر سکے۔ ممکن ہے ان بزنسوں میں رحیم یار خان کے علاقے میں پاکستان کے سب سے بڑے رابرٹ پولٹری فارم کا نام بھی آیا ہو! چلئے 16 اپریل کتنی دور ہے؟
٭مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی! پہلے والے مصائب ہی کیا کم تھے کہ سابق صدر آصف زرداری کے دور اقتدار میں کراچی کی الیکٹرک کمپنی کو اپنی مرضی کے داموں خریدنے والی ’ابراج‘ کمپنی کا مالک عارف نقوی اور اس کا نمبر وَن عہدیدار عبدالودود دھوکہ اور کرپشن کے الزام میں لندن اور امریکہ میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ ان پر امریکہ کے بڑے بڑے اداروں ’’بل گیٹس کمپنی‘‘ وغیرہ کو دھوکہ دے کر اربوں کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ ابراج کمپنی 1994ء میں (وزیراعظم بے نظیر بھٹو، آصف زرداری وزیر) 50 ہزار ڈالر کے سرمایہ کے ساتھ وجود میں آئی اور پھر 21 ممالک میں 17 ارب ڈالر کے اثاثے بنا لئے جو مختلف تعزیراتی اقدامات کے باعث اب تین ارب ڈالر تک سمٹ گئے ہیں۔ کراچی الیکٹرک کمپنی 25 لاکھ صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ معاہدہ کے مطابق اسے بجلی کے نئے پلانٹ بھی لگانے تھے مگر اب تک ایک پلانٹ بھی نہیں لگا۔ اس کمپنی کے قیام کے پس منظر میں کیا سکینڈل کارفرما تھے؟ بار بار کیا چھاپا جائے؟
٭نیب کے سارے وکیل نااہل قرار پائے اب مجبوراً نعیم بخاری کو بڑے بڑے کیسوں، خاص طور پر شریف خاندان کے کیسوں کی پیروی کے لئے نیب نے نجی طور پر وکیل مقرر کر لیا ہے۔ اہم بات یہ کہ نعیم بخاری نے یہ کیس مفت لڑنے کا اعلان کیا ہے صرف ایک روپیہ فیس لیں گے! یہ بات عجیب سی لگتی ہے مگر عجیب نہیں ہے۔ عام آدمی پوچھ سکتا ہے کہ درجنوں بڑے بڑے سرکاری وکیلوں کو کروڑوں روپے فیس دی جا رہی ہے پھر ایک نجی وکیل کیوں؟ اس سے نیب کے وکلا کے بارے میں کیا تاثر ابھرا ہے؟ چلئے چھوڑیئے اور بھی خبریں ہیں۔
٭مولانا فضل الرحمان کی طبیعت بہتر ہو گئی، ہسپتال سے گھر واپس آ گئے۔ فرمایا ہے کہ کھانا زیادہ کھالیا تھا اس سے معدہ میں تکلیف ہو گئی تھی۔ عام سی بات ہے۔ کھانا اچھا ہو تو آدمی زیادہ کھا لیتا ہے۔ مولانا نے کھانے کی تفصیل نہیں بتائی، پتہ نہیں مولانا فضل الرحمان نے کیا کھایا تھا؟
٭گدھوں کے لئے ایک افسوسناک خبر! لاہور میں محکمہ حیوانات کے زیر اہتمام بیمار گدھوں کے علاج کے لئے ایک ہسپتال قائم تھا اس میں ایک ایمرجنسی اور ایک جنرل وارڈ تھا۔ ان وارڈوں میں مفت علاج کے علاوہ گدھوں کو مفت چارہ بھی دیا جاتا تھا۔ معاشی بدحالی کے شکار صوبے (43 وزیر، ہر وزیر 7 لاکھ روپے) کی معیشت بہتر بنانے کی راہ میں ہسپتال میں گدھوں کو مفت چارہ بہت بڑی رکاوٹ دکھائی دے رہا تھا۔ سو صوبے کی مالی پوزیشن بحال کرنے کے لئے گدھوں کا جنرل وارڈ اور مفت چارہ بند کر دیا گیا ہے اب صرف ایمرجنسی میں مختصر علاج کیا جا سکے گا۔
٭تنخواہ دار لوگوں کے لئے ناخوش گوار خبر: آئی ایم ایف کے مطالبہ پر تنخواہ داروں کے لئے بارہ لاکھ روپے سالانہ تک کی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب یہ چھوٹ صرف چار لاکھ روپے تک محدود ہو گی۔