08:39 am
خودمختارکشمیرکی سازش

خودمختارکشمیرکی سازش

08:39 am

27فروری کومودی نے امریکہ واسرائیل کی بھرپورمددسے جس جارحیت کاآغازکیا،اس سے اگلے ہی دن ان تمام پاکستان دشمن قوتوں کوپاکستانی کی دفاعی اورجوابی حملے  نے سب کو نہ صرف ششدر کردیا بلکہ سب کوپتہ چل گیاکہ پاکستان بھارت سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اوراس واقعے کے بعد بھارت کو عالمی جگ ہنسائی کااوررسوائی کاسامناالگ کرناپڑا مگرسوال یہ ہے کہ بھارت نے یہ جنگ کیوں چھیڑی۔کیامودی کے موذی پن نے اپنے انتخابات جیتنے کیلئے اس خطے کی تباہی کیلئے یہ خطرناک قدم اٹھایایااورکچھ بھی اس کے ساتھ بین الاقوامی بساط پرہے۔کسی بھی کھیل یاکاروائی کے پیچھے یہ دیکھا جاتاہے کہ اس کاکس کوکیافائدہ ہوا؟پاک بھارت جھڑپوں کے فائدے کی بات کریں توبات یہ بنتی ہے کہ نقصان فریقین کاہوااورفائدہـ امریکہ کاہوا۔ جنگ کے دعوؤںکی اوٹ میں قصر سفید کے فرعون ٹرمپ کابیان آیاکہ جلدہی پاکستان وبھارت سے اچھی خبرکی امید ہے اوراس طرح یہ اچھی خبردنیاکو موصول ہوئی کہ پاکستان نے الدعوہ فلاح انسانیت جیسی رفاعی تنظیم کے فنڈز منجمدکرکے ان پرپابندی کانوٹیفکیشن جاری کردیا۔ کالعدم تنظیموں کوایک مرتبہ پھرکالعدم قراردیکرانہی دشمنوں کوخوش کرنے کاپیغام دے دیاگیاہے۔
 
کالعدم جیش محمدکوایک مرتبہ پھرکالعدم قراد کران کے مدرسے کواپنی تحویل میں لیکر68افراد کو گرفتار کرلیاگیاہے جن میںمولانا ازھرمسعودکے بھائی مفتی عبدالرؤف اوران کے بیٹے حماد اظہربھی شامل ہیں اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی درندوں کی جارحیت میںاضافے سے شہادتوں کاسلسلہ تیزہوگیا ہے۔ پاکستان  میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کی آڑمیں بھارت مقبوضہ کشمیرمیں خون کی ہولی کھیلنے میں جس قدرآزادہوتاجائے گا،وہ اسی قدر امریکہ کوپیغام بھیجے گاکہ ’’رام تیرابھلاکرے‘‘۔ اس دوطرفہ صفائی کے عمل کے ساتھ ہی اب کشمیر کامسئلہ حل کراکر بھارت تنازع کوختم کرکے ان دونوں ملکوں میں امن کی آشاکے نام پرایٹمی قوت سے پاک وصاف کردیاجائے گاکہ جب تنازع ہی نہیں رہاتو ایٹمی ہتھیاروں کی بھی ضرورت نہیں۔اس کیلئے ایک نیا منصوبہ ترتیب دیاگیاہے کہ کنٹرول لائن جوعبوری سرحد کادرجہ رکھتی ہے،پاک بھارت کی ایک محدودجنگ کروا دی جائے جوبین الاقوامی سرحدکی خلاف ورزی کی زدمیں نہیں آتی اورنہ ہی بین الاقوامی سرحدوں کومتاثر کرے گی۔
کنٹرول لائن کی صورتحال  قابو سے باہرہونے کی صورت پرامریکہ،یورپی ممالک اوراقوام متحدہ مداخلت کرکے کشمیرکی خودمختاری کے نام پراسے عارضی کنٹرول میں لیکرجنوبی سوڈان کی طرزپرعالمی فوج کے سپردکردیاجائے گا،اس طرح یہ ریاست کشمیر امریکہ کے تابع ہوگی جس طرح انڈونیشیامیں مشرقی تیمورکی بنیادرکھی گئی۔خودمختارکشمیر،گلگت، بلتستان آزاد کشمیر اور جموں کے سوا پورامقبوضہ کشمیر شامل ہوگا۔ بھارت کوجموں انعام میں دے دیاجائے گا۔یہ وہی منصوبہ ہے جو 1964ء میں پنڈت جواہرلال نہرونے کشمیری لیڈرشیخ عبداللہ کے توسط سے صدر ایوب کوبھجوایاتھا جسے ایوب خان نے مستردکردیا تھا ۔ اس محدودجنگ سے چین کامحاصرہ بھی فول پروف ہوجائے گا۔وسطیٰ ایشیامیں امریکی اثرات اور تسلط مزیدمضبوط ہوجائے گااور افغانستان سے اٹھنے والے اخراجات پربھی نظررکھی جاسکے گی۔چین امریکہ کے اس ناپاک منصوبے کوبھانپتے ہوئے پاک بھارت جنگ کی بجائے ان دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان مفاہمت چاہتاہے۔ 
گلوبل ٹائمزمیں شائع ایک مضمون میں بیجنگ کا ایک پیغام شائع ہواہے جس میں اس نے کہاہے کہ ’’ اسے پاک بھارت دونوں کامفادعزیزہے لہٰذا چین کیلئے ان دونوں ممالک میں سے کسی ایک کی طرف داری ممکن نہیں‘‘۔اس دوسطری پیغام میں دونوں ممالک کوجنگ کی بجائے سلامتی کاراستہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ کوئی بھی ملک کسی خوف یا آسرے میں جنگ کانہ سوچے جومکمل تباہی کا سامان ہواکرتی ہے۔چین کے ادارہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ تحقیق کارفیوزیاؤ کیانگ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کرانے یاثالث کا کردار ادا کرناچین کیلئے موجودہ صورتحال میں بھی مشکل ہوگا۔
یہ بات پریشان کن اورامریکی منصوبہ کاحصہ ہی سمجھی جارہی ہے کہ ’’اوآئی سی‘‘کے وزرائے خارجہ کے46ویں اجلاس کے اختتام پرجوپچاس نکاتی اعلامیہ جاری کیاگیااس میں کشمیر کاسرے سے کوئی تذکرہ نہیں کیاگیااوربھارتی وزیرخارجہ اس اجلاس میں مہمان خصوصی کے طورپرشریک ہوئیں بلکہ انہوں نے اجلاس سے خطاب بھی کیا۔اعلان ابوظہبی میں نکتہ 15-14-13میں فلسطین کاذکرتوکیاگیالیکن مسئلہ کشمیرکواسلامی تنظیم کے وزارتِ خارجہ سے یکسر باہر کرکے پاکستان کویہ پیغام دیاگیاکہ یہ اب ان کامسئلہ نہیں اوریوں پاکستان جو اس تنظیم کانہ صرف بانی رکن ہے بلکہ اس تنظیم کی تشکیل میں بھی اس کااہم کرداررہا، اس کی تنہائی کے احساس کواجاگرکرکے خودمختارکشمیر کے منصوبہ سازکوبتایاگیاکہ ہم اس بارے میں پاکستان کے ساتھ نہیں اوربھارتی پائلٹ کی رہائی کوسراہتے ہوئے توقع ظاہرکی گئی کہ اس سے خطے میں موجودہ کشیدگی کے خاتمے میں مددملے گی۔
امریکہ نے پرویزمشرف کے دورمیں بھی اسی نہرومنصوبے 1964ء کوآگے بڑھایاتھاجس پر پرویز مشرف  نے آگرہ کادورہ کیا۔واجپائی اورمنموہن سے گفتگوجاری رہی مگرممبئی حملوں نے سارے منصوبوں پرپانی پھیردیا۔ نہرو منصوبے کے بعدبھارت نے 1965ء کی جنگ چھیڑکربزورمعاملہ نمٹاناچاہامگروہاں بھی بھارت کوناکامی اورشرمندگی ہوئی  اوراب معاشی لڑائی شروع کردی گئی ہے اوراب امریکہ اپنے مفادات کیلئے خطے میں بھارتی بالادستی کاخواب دیکھ رہاہے۔پہلے امریکابھارت کولگام دینے کیلئے پاکستان پرانتہائی مہربان تھامگراب چین کی معاشی قوت کی بالادستی کوکنٹرول کرنے کیلئے بھارت کواس خطے کی بالادستی کیلئے شب وروزکام کررہاہے یایوں کہہ لیں کہ اپنے مفادات کیلئے بھارت کی قربانی درکارہے اورپاکستان نے جس نے امریکہ کوچین تک راہداری فراہم کی تھی۔اب وہ ناپسندیدہ ہے کہ وہ خودمختارنہ بنے اوراسلامی ریاست کاتصوربھی چھوڑدے۔
اب پاکستان میں ہونے والے اقدامات بتا رہے  ہیں کہ کل خیرنہیں ہے اورتبدیلی کاعمل بتارہاہے کہ کچھ کھچڑی پک رہی ہے اورموجودہ حکومت،مدینہ کی ریاست بنانے کوجودعویٰ کر رہی ہے ،وہ رسول اللہ ﷺکی ہجرت سے پہلے والامدینہ توہوسکتاہے مدینتہ الرسول ہرگزنہیں۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بات بڑھ کرنظریہ پاکستان پرحملہ آورہوچکی ہے۔شہہ رگ پاکستان کشمیرکودبوچنے کی عالمی سازش پنپ رہی ہے اورایٹمی اثاثے خطرے میں ہیں۔امریکہ ،ایران ، انڈیا اوراسرائیل سب اس معاملے پرمتفق نظرآرہے ہیں۔ ایران  اسرائیل کے درمیان تنازعہ بالکل ایسا نظرآتاہے جیسے ہمارے ہاں نوازشریف اورزرداری اختلافات ہیں اورامریکہ کاکردارمولانافضل الرحمان جیساہے۔دشمن اپنی چالیں چل رہاہے مگراللہ کی اپنی حکمت ہے جوغالب ہونے کیلئے ہے۔