07:55 am
ٹرمپ کی بڑھک اورپسپائی

ٹرمپ کی بڑھک اورپسپائی

25 جنوری کووینزویلا کی قومی اسمبلی کے رہنما جوآن گائیڈو نے عبوری صدر بننے کا اعلان کیا۔ امریکہ، کینیڈا، امریکی ریاستوں کی تنظیم اور براعظم امریکہ کے گیارہ ممالک تو گویا اس اعلان ہی کے منتظر تھے‘ انہوں نے فوری طور پر اس اعلان کی حمایت کا اعلان کردیا۔ دوسری طرف روس، چین،ترکی، ایران اور کیوبا نے صدر نکولس مکدورو کی حمایت کا اعلان کردیا۔ امریکہ اور ترکی ایک بار پھر تصادم کی راہ پر ہیں۔ واشنگٹن نے انقرہ کو گھیرنے کی کئی کوششیں کی ہیں۔ ایک بڑا حملہ تو ترک معیشت پر کیا گیا، جو جھیل لیا گیا ہے۔ ترک صدر اردگان کو اب امریکہ سے الجھنے کا ہنر آگیا ہے۔ مجموعی کیفیت یہ ہے کہ وہ امریکہ سے بہتر طور پر نمٹنے کے موڈ میں ہیں۔ وینزویلا کے معاملے میں ترک صدر نے ٹوئیٹ کیا کہ ہم وینزویلا ہیں۔ یہ گویا اس امر کا اعلان تھا کہ امریکہ جو چاہے کرلے‘ اس کی مخالفت ترک نہیں کی جائے ، بالخصوص اصولوں کے معاملے میںیہ ٹوئٹ ترکی میں عمومی رجحان بن گیا۔ ترکی نے اردگان کے دور میں روس، چین، ایران، وینزویلا اور ایسی ہی دیگر ریاستوں سے تعلقات بہتر بنائے ہیں جہاں مطلق العنان حکومتیں ہیں۔ وینزویلا سے تعلقات کو وسعت دینے میں ترکی نے بخل یا تامل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں ایک وسیع البنیاد معاہدے پر دستخط کیے ہیں‘ جس کے تحت وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں ایک مسجد تعمیرکی جائے گی اور ترک ایئر لائن کا دفتر بھی کھولا جائے گا۔ 
 
دونوں ممالک نے کئی برس پہلے دوطرفہ تجارت کو وسعت کاایک معاہدہ بھی کیاتھا۔ امریکہ نے وینزویلا کو مختلف حوالوں سے پریشان کرنا جاری رکھا ہے‘ جس کے نتیجے میں وہاں کے عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ایران سمیت کئی ممالک وینزویلا کو مشکل لمحات میں مدد دے رہے ہیں۔ اِسی روش پر گامزن رہنے کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ اب ترکی بھی وینزویلا کی مدد کرنے پر آمادہ ہے۔ گزشتہ جولائی میں وینزویلا کے اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا کہ وہ ترکی میں قائم ایک بڑے کارخانے میں اپنے سونے کو بہتر شکل فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس اعلان کے بعد وینزویلا سے سونا بڑے پیمانے پر ترکی منتقل کرنے کا عمل شروع ہوا۔ یہ عمل امریکہ کیلئے بہت پریشان کن تھا کیونکہ وینزویلا اس کے ہاتھ سے جارہا تھا۔ واشنگٹن نے پروپیگنڈہ شروع کیا کہ جو سونا انقرہ جارہا ہے وہ واپس نہیں آئے گا۔ یہ گویا وینزویلا کے عوام کو ورغلانے اور اکسانے کی ایک بھونڈی کوشش تھی۔
 وینزویلا کے پاس سونے کے معاملے میں ترکی پر بھروسہ کرنے کے سوا آپشن نہ تھا کیونکہ یورپ نے قدم قدم پر امریکہ کی ہم نوائی کا عندیہ دیا ہے۔ اس پر بھروسہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ سوئٹزر لینڈ کے حوالے سے وینزویلا کے وزیر کان کنی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اور یہ بات ایسی نہیں کہ سمجھی نہ جاسکے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2017 ء میں دونوں ممالک کے درمیان سونے کی تجارت نہ ہونے کے برابر تھی مگر 2018 ء کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران وینزویلا سے 90کروڑ ڈالر مالیت کا سونا ترکی منتقل ہوا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے معاون سیکرٹری برائے ٹیررسٹ فائنانسنگ مارشل بلنگزلی نے بتایا کہ سونا منتقل کرنے کیلئے وینزویلا کی قومی اسمبلی سے اجازت بھی نہیں لی گئی اور یہ کہ عوام کو صریح دھوکے میں رکھا گیا ہے۔ امریکہ نے وینزویلا کے عوام کے حق میں چار آنسو بہانے کا ناٹک اِس طور کیا گویا وہ اب تک جو کچھ بھی کرتا آیا ہے وہ ان کے حق میں تھا اور ہے تاہم جو سونا ترکی بھیجا گیا ہے وہ اب تک واپس نہیں آیا مگر وینزویلا نے عوام میں خوراک کی قلت دور کرنے کے حوالے سے ترکی سے بھرپور مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ترکی سے خوراک کے لاکھوں ڈبے وینزویلا پہنچ رہے ہیں۔ امریکی پابندیوں اور دیگر حالات و اقدامات کے نتیجے میں وینزویلا کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا رہا ہے۔ صورتِ حال بہتر بنانے میں ایران اور ترکی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ وینزویلا کا جو سونا ترکی منتقل کیا گیا ہے اس کا کچھ حصہ شاید ایران بھی جارہا ہو۔ ایسا کرنا ان پابندیوں کی خلاف ورزی میں شمار ہوگا، جو امریکہ نے ایرانی حکومت پر عائد کی ہیں۔ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برس کے اوائل میں ترکی سے تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تصادم کے بعد بھی امریکہ نے ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے حوالے سے ترکی کو استثنیٰ دیا۔ ایران سے تیل خریدنے پر پابندی عائد کی گئی جو 4 نومبر سے نافذ ہے۔ اس پابندی سے بھارت سمیت چند ہی ریاستوں کو تھوڑا بہت استثنٰیٰ دیا گیا ہے جن میں ترکی بھی شامل ہے۔ 
گزشتہ برس کے اوائل میں ترک کرنسی کو بحرانی کیفیت سے دوچار کرنے پر امریکہ کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں بھارت اور دیگر چند دوسرے ممالک میں بھی اسٹاک مارکیٹ بحران کا شکار ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہ سوچا جارہا تھا کہ امریکی پالیسی ساز ایران کے معاملے میں ترکی کو کسی بھی نوع کی رعایت دینے سے گریز کریں گے۔ ایرانی تیل کے حوالے سے ترکی کو استثنیٰ دینے کے فیصلے نے دنیا کو حیران کردیا۔ اِسے امریکہ کی کمزوری کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بہت سے معاملات میں بڑھک مارنے کے بعد پسپائی اختیار کی ہے۔ امریکہ کیلئے ہر محاذ پر ڈٹے رہنا اب زیادہ ممکن نہیں رہا۔
وینزویلاکے معاملے میں ترکی ایک بار پھر کھل کر اور ڈٹ کر امریکہ کے سامنے آگیا ہے۔ یہ گویا اس امر کا اعلان ہے کہ امریکی طاقت سے ٹکرانے میں کچھ زیادہ حرج نہیں۔ انقرہ کو معلوم ہے کہ واشنگٹن پر غیر معمولی دباؤہے۔ یورپ کی بہت سی مضبوط ریاستیں اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔ ان کیلئے واشنگٹن کی دی ہوئی لائن پر چلنا لازم رہا ہے نہ ممکن۔ امریکی پالیسی ساز بھی جانتے ہیں کہ یورپ کو زیادہ دیر تک اپنے پلو سے باندھ کر رکھا نہیں جاسکتا۔ یہی سبب ہے کہ دیگر بہت سے ممالک کی طرح اب ترکی بھی اپنے حساب کتاب کے مطابق چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔