07:42 am
تارکین وطن کا ملک 

تارکین وطن کا ملک 

07:42 am

 کینیڈا کے  بین الاقوامی پیئرسن ائیر پورٹ ٹورنٹو  پر پی آئی اے کی پرواز پی کے سیون نائن سیون  کی لینڈنگ  کےلئے  پائلٹ نے اعلان کیا تو دوپہر کے اڑھائی بج  رہے تھے ۔ میں نے جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکا ،سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا  مگر  چاروں اوڑ برف کے ڈھیر  بھی نظر آ رہے تھے جو پچھلے دنوں ہونے والی شدید برف باری کا پتہ دے رہے تھے ۔امیگریشن کے ضوابط پورے کرتے ہوئے میں ائر پورٹ  سے باہر نکلا تو حسب معمول میری اہلیہ اور بیٹیاں مجھے لینے کےلئے موجود تھیں۔ لاہور سے  ٹورنٹو  آنے والی  پرواز کا دورانیہ کوئی چودہ گھنٹے کا ہوتا ہے،یہ جہاز کوئی ڈھیڑھ گھنٹہ تاخیر سے  روانہ ہوا  جبکہ اترنے کے بعد  جہاز کے مسافروں کو  نکلنے کےلئے  بھی  آدھ گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا جسے تکنیکی خرابی ہی قرار دیا جا سکتا ہے،مگر دوران پرواز جہاز کے عملے نے مسافروں کی دیکھ بھال کےلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،حالانکہ کھانے پینے کا کوئی مثالی انتظام تھا نہ تفریح کےلئے کوئی سمعی و بصری سہولت۔ان حالات میں جہاز کے عملے کو ضرور داد دینی چاہئے ۔
 
گاڑی  نے ائیر پورٹ کی حدود سے نکل کر  واٹر لو میں واقع ہمارے گھر جانے کےلئے ہائی وے فور ،او، ون پر ٹرن لیا تو میری اہلیہ نے مجھے فون دیتے  ہوئے کہا کہ عرفان بھائی کئی دفعہ آپ کا پوچھ چکے ہیں ان  سے بات کر لیں ۔عرفان بھنگو میرا کزن بھی ہے اور لڑکپن کا دوست بھی۔عرصہ ہوا کینیڈا میں آباد ہے  ،پنجاب یونیورسٹی سے  بانوے میں صحافت کی ڈگری  تو لے لی مگر عملی صحافت کے جھمیلوں میں پڑنے کی بجائے تھوڑا عرصہ باپ دادا  کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کاشتکاری کرتا رہا ، بعد ازاں کینیڈا چلا آیا  اور آج یہاں خوشحال زندگی گزار رہا ہے، شائد   بھنگووں اور سندھووں کا وزیر آباد کاری ہے،اپنے ہر رشتہ دار اور دوست کو یہاں کا رستہ دکھاتا رہتا ہے۔عرفان  سے بات کرنے کے بعد میں  کینیڈا کے بارے میں سوچتا رہا ۔
برفیلے کوہساروں،پھولوں سے لدے مرغزاروں،بلندی سے گرتی آبشاروں  اور میٹھے پانی کی جا بجا بکھری ہزاروں جھیلوں کا دیز ہے۔سردو گرم موسموں،ایک طرف سمندر کے کھارے پانی اور دوسری طرف میٹھے پانیوں کے ذخائر، ہر رنگ ،نسل ،ذات، مذہب،ملک کے افراد پر مشتمل دنیا بھر کے تارکین وطن کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو سے  اس کے طول و عرض ہر وقت مہکتے رہتے ہیں۔کینیڈا کسی دور میںبرف کا جہان تھا،یہاں کے اصل باشندے آج بھی  شہری آبادیوں میں  رہنے کے بجائے قطب شمالی کی برفیلی چوٹیوں پر بسیرا کئے ہوئے ہیں،کینیڈا کی ماضی کی تہذیب وقت کی گرد تلے کہیں دفن ہوچکی ہے اس وقت  یہاں یورپی تمدن کاغلبہ ہے۔   برطانیہ اور فرانس نے اس خطہ زمیں پر تسلط کیلئے طویل جنگ لڑی،اگر چہ کینیڈا امریکہ کے قریب واقع ہے جس کی وجہ سے اسے جنوبی امریکہ بھی کہا جاتا ہے،مگر یہ ملک ایک عرصہ یونین جیک کے زیر اثر رہا اور یہاں ملکہ برطانیہ کا سکہ چلتا رہا،تاریخ دانوں کے مطابق 14ہزار سال قبل پہلے تارکین ، سمندر کے راستے یہاںآکر آباد ہوئے،انسانی تاریخ کی قدیم ترین یادگاریں بھی ’’اولڈ کرو فلیٹس‘‘اور’’بلیو فش کیوز‘‘ کے نام سے یہاں آج بھی موجود ہیں۔
کینیڈا کے برطانوی کالونی بننے کے بعد بڑی تعداد میں برطانوی باشندوں نے نقل مکانی کر کے کینیڈا میں رہائش اختیار کی،فرانس سے بھی بڑی تعداد میں تارکین وطن نے کینیڈا میں سکونت اختیار کی،یورپ سے آنے والے تارکین کی آباد کاری کیخلاف مقامی لوگوں نے ہلکی پھلکی مزاحمت بھی کی،مگر جلد ہی ان کو قسمت کا لکھاسمجھ کر قبول کر لیا،برطانیہ کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مقامی باشندوں نے سرگرمی سے حصہ لیا،اور پھر مقامی لوگوں نے تارکین سے ازدواجی بندھن بھی باندھناشروع کر دیا جس سے ایک نئی نسل نے جنم لیا جو مقامی آبادی اور تارکین میں قریبی مراسم کا سبب بنی،اٹلی اور پرتگال نے بھی یہاں کی دولت میں سے اپنا حصہ وصول کرنا شروع کیا اور کینیڈا کے سمندروں میںماہی گیری کاپیشہ اپنایا۔  آج بھی کینیڈا میں اکثر شہروںکے نام برطانیہ   اور فرانس کے شہروںسے منسوب ہیں،طویل جنگوںکے بعد 1763 ء میں برطانیہ کینیڈا کے بیشترحصہ پر تسلط قائم کرنے میںکامیاب ہو گیا،اس دوران برطانیہ اور فرانس اپنی زبان اور تہذیب کے نفاذ   کیلئے مسلسل کوششوں میںمصروف رہے،اس کوشش میں کبھی کبھار تشدد بھی در آتا نوبت جنگ کی بھی آتی رہی،1812ء میں امریکہ اور برطانیہ میں بھی  کینیڈا کی سرحدوں کے حوالے سے جنگ  ہوئی جس کے بعد کینیڈا کی مستقل سرحدکا تعین کیا گیا۔
1867ء میں صوبوں کا قیام عمل میں آیا ،1905ء میںنئے صوبے قائم کئے گئے،اس وقت کینیڈا میں دس صوبے ہیں،99لاکھ80ہزار مربع کلو میٹر پر محیط کینیڈا کی 80فیصد آبادی شہری ہے جبکہ زیادہ تر زمین پر جنگلات ہیں۔
 برطانوی کالونی کی حیثیت سے پہلی جنگ عظیم میںبھی کینیڈا سے فوجی بھرتی کی گئی،اس جنگ میں چھ لاکھ 25ہزار کینیڈین شہریوں نے حصہ لیا جن میں سے 60ہزار مارے گئے،اور ایک لاکھ 72ہزار زخمی ہوئے۔
کینیڈا ایک پارلیمانی جمہوری ملک ہے،کرپشن سے عاری ممالک میں کینیڈا کا پہلا نمبر ہے،حکومتی سطح پر شفافیت بھی اس کا خاصہ ہے،شہریوں کا بلند تریںمعیار زندگی بھی کینیڈا کی خصوصیت ہے،شہری آزادی کے حوالے سے(باقی صفحہ6بقیہ نمبر1)
 بھی کینیڈا کو ممتاز مقام حاصل ہے،پابندیوں سے آزاد معیشت بھی کینیڈین معاشرے کا ایک لازمی حصہ ہے،شرح خواندگی اور معیار تعلیم میں بھی کینیڈا کو خاص مقام حاصل ہے،تیزی سے ترقی کرتی معیشت دینا کی چند بڑی معیشتوںمیں شامل ہوتی ہے،مختصر مدت میں ترقی یافتہ ملک بننے میں شہریوں کو حاصل آزادی اور قانون کی حکمرانی ہے،کینیڈا سب سے زیادہ فی کس انکم حاصل کرنے والادنیا کا 15واں ملک ہے،انسانی ترقی میںکینیڈا دنیا میں 12ویں نمبر پر ہے،معاشی ترقی میں کینیڈا دسواں بڑا ملک ہے۔
         کینیڈا دنیا کا واحد ملک ہے جہاںہر رنگ،نسل،ذات،مذہب اور ملک سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں،مگر اس کے باوجود
 نفرت، عصبیت نام کے کسی جانور کا وجود نہیں،سب بھائی چارے اور اخوت سے رہتے ہیں،ایک دوسرے کے غم خوشی میں شریک
 ہوتے ہیں،دیانتداری سے کہا جائے تو اسلام نے دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے جو پیغام انسانیت کو دیا وہ کینیڈا میں عملی طور پر رائج
 ہے،اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کا ہر شخص کینیڈا میںمستقل سکونت اختیار کرنے کا خواہشمند ہے،کینیڈا کی حکومت ہر مکتب فکر کے لوگوں کو تحفظ اور من مرضی سے زندگی بسر کرنے کا موقع دیتی ہے،جھوٹ ،بد دیانتی،دھوکہ دہی کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں،ہر شہری اپنے مذہبی عقائد کی روشنی میںزندگی گزارنے میں آزاد ہے،مذہبی رسومات اور عبادات  پر بھی کوئی  پابندی نہیںمگر اس کیوجہ سے شہری زندگی  متاثر نہیںہوتی۔دوسری طرف  ہمارا  پیارا  پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا  مگر  ہم   اپنے عقائد کے مطابق رسومات   ادا کرتے ہوئےکس کس کو پریشان کرتے ہیںیہ سوچنے کی بات ہے۔ 
      کالم