08:04 am
ملا محمد عمر کی کہانی ختم نہیں ہوئی

ملا محمد عمر کی کہانی ختم نہیں ہوئی

08:04 am

اقتدار! امر بھی کر سکتا ہے اور ہمیشہ کے لئے رسوا بھی! اگر کسی کو  کو یقین نہ آئے‘ اسے چاہیے کہ وہ ملا   عمر مجاہد اور ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی زندگیوں کو دیکھ لے‘ دوست دشمن سب مانتے ہیں کہ ملا محمد عمر انتہائی سادہ‘ درویش منش اور خدا پرست انسان تھے... ان کی شخصیت میں مکاری‘ عیاری‘ دغا بازی‘جھوٹ‘ منافقت کا شائبہ تک نہ تھا‘ انہوں نے اپنے 6سالہ دور اقتدار میں افغانستان کے 90فیصد سے زائد حصے کو کرپشن‘ قتل و غارت گری‘ چوری‘ ڈکیتیوں ‘ وارلارڈر‘اسلحے اور پوست کی کاشت سے پاک کرکے دنیا پر ثابت کر دیا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کی برکت سے جنگ زدہ علاقوں کو آج بھی مثالی معاشرے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
یہ 1995ء کے آغاز کی بات ہے کہ جب یہ خاکسار علماء اور صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ قندھار کے مطالعاتی دورے پر گیا تو طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد سے بھی تفصیلی ملاقات کا موقع ملا‘ وہاں پر اس وقت طالبان کے نائب سربراہ مرحوم ملا محمد ربانی‘ گورنر خوست‘  مولانا احسان اللہ‘ اس وقت کے وزیر خارجہ مفتی معصوم‘ شہید ملا مشعر اور ملا امیر خان متقی بھی موجود تھے۔
قندھار کے گورنر ہائوس میں ملا محمد عمر کے ساتھ ہونے والی ملاقات نے میرے سمیت وفد کے ہر شخص کے دل و دماغ پر ایسے نقش چھوڑے کہ پھر ساری دنیا مل کر بھی ان نقوش کو نہ مٹا سکی اور نہ ہی دھندلا سکی‘ وفد کے سربراہ جامعہ حقانیہ کے شیخ الحدیث حضرت اقدس ڈاکٹر شیر علی شاہ نور اللہ مرقدہ‘ ملا عمر سے ملاقات کے بعد بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ مثالی حکومت کے مثالی حکمران ایسے ہی ہوتے ہیں۔
دجالی میڈیا نے  ملا محمد عمر کے حوالے سے دھول اڑا رکھی تھی‘ تب ملا محمد عمر صرف 13صوبوں کے حکمران تھے‘ ان سے ملاقات کے بعد اندازہ ہوا کہ ملا محمد عمر اپنے طالبان کے ذریعے اگر اسی طرح فسادیوں کو بھگا کر فتوحات حاصل کرنے کے بعد وہاں امن قائم کرنے ‘  عوام کو چوروں‘ ڈاکوئوں‘ وار لارڈز سے نجات دلا کر وہاں کی مسجدیں اور تعلیمی ادارے آباد کرتے رہے تو بہت جلد یہ کابل پر بھی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پھر افغانستان میں نافذ اسلامی نظام کی خوشبو دوسرے ممالک تک پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا... عالمی طاقتوں کو افغانستان میں وارلارڈز‘ چور ‘ ڈاکو‘ لٹیرے اور قاتل تو قبول مگر ملا عمر اور ان کے طالبان اسی لئے قبول  یا برداشت نہیں تھے کیونکہ وہ نفاذ اسلام کی برکات اور ثمرات سے بخوبی واقف تھے۔
ملا محمد عمر سے ملاقاتوں کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ سادہ اور درویش منش ضرور ہیں مگر ذہانت‘ دانشمندی‘ بصیرت اور معاملہ فہمی بھی ان کے مزاج کا خاصا ہے‘ میرا مغربی میڈیا کے پنڈتوں کو چیلنج ہے کہ دنیا کے کسی ایک ایسے حکمران کی مثال پیش کریں کہ جس کے ایک فرمان پر اس کے زیر نگیں علاقے سے پوست کی کاشت ختم ہو جائے؟
دنیا کا کوئی ایک  ایسا حکمران لائیں کہ جس کا ملک سالہا سال سے جنگ زدہ ہو‘ جہاں کے بچوں کے کھلونے کلاشنکوف اور گرنیڈ ہوں لیکن پھر حکومت سنبھالنے کے بعد اس نے نہایت حکمت و بصیرت سے اپنے زیرنگیں صوبوں  میں بسنے والے وار لارڈز اور عوام سے اسلحہ سرکاری مال خانے میں جمع کروا کر سارے صوبوں کو اسلحے سے پاک کر دیا ہو؟ جی ہاں وہ واحد حکمران صرف ملا محمد عمر مجاہد ہی تھے کہ جنہوں نے زخموں سے چور چور افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عملی طور پر یہ سب کر دکھایا تھا۔
ملا محمد عمر اور ان کے طالبان کو افغان عوام پسند ہی اس لئے کرتے تھے کیونکہ انہوں نے اسلام کا نظام عدل‘ مساوات عملی طور پر نافذ کرکے عوام کو حقیقی طور پر  ریلیف پہنچانے کی کوشش کی تھی‘ آج  مجھے قندھار کا بوریہ نشین مثالی حکمران ملا محمد عمر  یاد اس لئے آیا کیونکہ ہالینڈ کی ایک خاتون صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے امیر المومنین ملا محمدعمر پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈے سے صرف تین میل کے فاصلے پر مقیم رہے جبکہ امریکی سیکورٹی ادارے اور امریکی حکام یہ سمجھتے رہے کہ وہ پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں‘ دوسری طرف افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملا محمد عمرمجاہد کی زندگی کے آخری سات سال کی قیام گاہ جو ایک کمرے اور اس کے باہر بنے مختصر سے صحن پر مشتمل تھی کی دو تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
کمرے کے اندر لکڑی کا ایک تخت‘ ایک ہیڑ‘ ایک کولر اور چند دیگر اشیاء دکھائی دے رہی ہیں‘ تصاویر کے ساتھ یہ تحریر بھی ہے کہ ’’وہ کمرہ جہاں مرحوم امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد نے اپنی زندگی کے آخری 7سال 5ماہ گزارے اور پھر یہیں ان کا انتقال ہوا‘‘ افغان صوبہ زابل کے دارالحکومت قلات میں واقع یہ کچا گھر ایک طالب عبدالصمد کا تھا کہ جو ٹیکسی چلا کر گزربسر کرتا تھا۔
عبدالصمد نے ہر ممکن حد تک اپنے خاندان کے افراد کو بھی گھر میں مقیم مہمانوں کی ہوا تک نہ لگنے دی‘ ڈچ صحافی بیٹی ڈیم لکھتی ہے کہ قلات کے اس گھر کے قریب ہی امریکی فوج نے اڈہ بنا لیا‘ جب امریکی فوج نے اس اڈے میں توسیع شروع کر دی تو ملا عمر اپنے محافظ جابر عمری سمیت 20کلو میٹر دور ضلع شنکے میں ایک اور گھر میں منتقل ہوگئے‘ ان چار برسوں کے دوران قلات والی پناہ گاہ کی دو مرتبہ امریکی فوج نے تلاشی لی‘ لیکن وہ ملا عمر کو نہ دیکھ سکے‘ ملا محمد عمر کا انتقال 2013ء میں ہوا...لیکن ان کی وفات کی خبر 2015ء میں منظر عام پر آئی‘ جبکہ مغربی میڈیا‘ امریکہ اور اس کے اتحادی یہ بلند و بانگ دعوے کرکے پاکستان پر دبائو ڈالتے رہے کہ ملا محمد عمر مجاہد پاکستان میں زیر علاج ہیں اور یہ بھی کہ ملا عمر کا انتقال کراچی کے  ہسپتال میں ہوا تھا‘ جبکہ ڈچ صحافی ملا محمد عمر مجاہد پر لکھی جانے والی اپنی تحقیقی کتاب میں لکھتی ہے کہ ملا محمد عمر نے علاج کے لئے بھی پاکستان جانے سے یکسر انکار کر دیا تھا۔
 یہ ہے امریکی طاقت کے کھوکھلے پن کی اصل حقیقت کہ جس کے سر کی قیمت ایک  کروڑ ڈالر مقرر کی‘ جس کی تلاش میں کروڑوں ڈالر پھونک ڈالے وہ امریکی فوجی اڈے سے محض 3کلو میٹر کے فاصلے پر 7سال 5ماہ تک مقیم رہنے کے بعد بالآخر طبعی زندگی پوری کرنے کے بعد رضاء الٰہی سے وفات  پاگیا ...مگر نام نہاد سپرپاور کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوسکی‘ ایک یہ بھی حکمران تھا کہ جس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو 5,5ہزار ڈالروں کے عوض امریکہ کے ہاتھوں بیچا اور دوسری طرف زابل کا عبدالصمد نامی وہ ٹیکسی ڈرائیور کہ جس نے ایک کروڑ ڈالر سر کی قیمت والے ملا محمد عمر کو 7سال اپنے گھر میں چھپائے رکھا مگر ڈالروں پر تھوکنا بھی گوارا نہ کیا۔