| Updated at: 10 Apr 2010
|
| |
آئینی کمیٹی کی تاریخی سفارشات |
|
 |
دستور میں اٹھارویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور ہوچکی ہے اور اب اس کا مسودہ منظوری
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 27 Mar 2010
|
| |
غلطی کا اعتراف |
|
 |
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صدر اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں توازن ہونا
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 22 Mar 2010
|
| |
یہ بھی احتجاج کا انداز ہے |
|
 |
مری کے حوالے سے ایک خبر نظر سے گزری کہ مقامی لوگوں کو ان کے حقوق نہ ملنے پر
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 19 Mar 2010
|
| |
ہماری خارجہ پالیسی |
|
 |
وزارت داخلہ نے چار روز قبل تمام پولیس افسروں کو ایک سرکلر کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا کہ دہشت گرد کسی وقت بھی حساس ادارے کی عمارت کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود فول پروف انتظامات نہیں کئے گئے۔ جس کے سبب دہشت گرد ماڈل ٹائون میں واقع تحقیقاتی ادارے کی عمارت پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے میں کامیاب ہو گئے جس کے نتیجہ میںد و منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی اور یوں 14 بے گناہ افراد جن میں سکول جانے والے بچے اور خواتین بھی لقمہ اجل بن گئیں اور 29 افراد شدید زخمی ہوئے جنکی حالت تشویشناک ہے۔
اس افسوس ناک واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حفاظتی اقدامات پر یا تو سرے سے توجہ نہیں دی گئی اور اگر دی بھی گئی ہے تو اس میں کوئی کسر رہ گئی۔ جس کا خمیازہ ماڈل ٹائون کے مکینوں کو بھگتنا پڑا۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کی ذمہ داری حکومت پنجاب کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے، جسے وہ دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر کے اپنے آپکو بچا لیں گے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ گزشتہ چارپانچ روز میں القاعدہ اور طالبان کے جو سر کردہ لوگ پکڑے گئے ہیں یہ اس کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔
اگر شہر سے ماڈل ٹائون کو جانے والے راستوں پر مربوط قسم کے حفاظتی اقدامات کئے جاتے تو شاید دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوتے۔
ماڈل ٹائون کے مکینوں نے پنجاب حکومت کو متعدد بار آبادی میں قائم تحقیقاتی ادارے کو آبادی کے لئے خطرہ ظاہر کرتے ہوئے اسے آبادی سے کسی اور محفوظ جگہ منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے۔ مگر شنوائی نہیں ہوئی اور یوں یہ دلخراش سانحہ پیش آیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس واقعہ پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حساس ادارے کو رہائشی علاقے سے باہر منتقل کر دیا جائے گا۔ اگر پہلے غور کر لیا جاتا تو اتنا جانی ومالی نقصان نہ ہوتا۔ اور علاقے کے مکین اس حادثے سے دوچار نہ ہوتے اور نہ ہی ان کے پیارے ان سے بچھڑتے۔
مغربی ممالک میں تحقیقی ادارے اور دھماکہ خیز مواد بنانے والی فیکٹریاں آبادی سے باہر بنائی جاتی ہیں کیونکہ ان میں حساس پلانٹ کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور ایسے حادثے سال دو سال کے بعد رونما ہوتے رہتے ہیں مگر چونکہ پلانٹ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ان پر صرف چند کاریگروں کو رکھا جاتا ہے کہ یہاں اگر کوئی پلانٹ بلاسٹ ہو جائے تو کم جانی نقصان ہو۔
جب آرڈیننس فیکٹری کا تعمیراتی کام شروع کیا گیا تو برطانوی انجینئرز نے ہتھیار ساز فیکٹری آبادی سے دور بنانے کی بجائے فیکٹری کے رہائشیوں کی کالونی کے قریب بنا کر ہم سے انتقام لے لیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ خصوصی کرم ہے کہ سوائے ایک حادثہ کے مزید نہیں ہوا اس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے فیکٹری اور دیگر حساس فیکٹریوں میں سیفٹی کے تحت اقدامات کئے جاتے ہیں۔
بہترین حفاظتی اقدامات پر مذکورہ ادارے کو شیلڈ دی جاتی ہے۔ انفرادی انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔
اگر حساس قسم کے اداروں کو آبادی سے دور رکھا جائے اور حفاظتی اقدامات میں کوتاہی نہ برتی جائے تو دہشت گرد وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں سارا کام اللہ توکل پر ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ آبادیوں میں سی این جی اسٹیشن اور پٹرول پمپ ہیں۔ جو آبادی کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان کے قریب جو آبادی ہے اس کے مکین بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں کسی وقت بھی دھماکہ ہو سکتا ہے اور بہت سے لوگ اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ یقینا لوگوں نے متعلقہ محکمہ کو شکایت کی ہو گی۔ مگر چونکہ پٹرول پمپ عام آدمی کے نہیں بلکہ اثر ورسوخ والوں کے ہیں لہٰذا مصلحت کوشش سے کام لیا جارہا ہے اورا گر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا تو کہہ دیا جائے گا کہ پٹرول پمپ اور سی این جی سٹیشن آبادی سے باہر منتقل کر لئے جائیں۔ مگر جن کے چشم چراغ موت کی نیند سو گئے ان کے لواحقین پر جو قیامت ٹوٹے گی۔ اس کا پہلے سے حل تلاش کر لیا جائے تو دانش مندی نہیں؟
اس وقت ملک کے تمام سرکاری ادارے خطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔ گو ان کی حفاظت تو کی جارہی ہے۔ مگر اس کے باوجود دہشت گرد اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک اسوقت تک دہشت گردی کی لپیٹ میں رہے گا جب تک حکومت امریکہ کی گود میں بیٹھی رہے گی۔
عسکری حکومت تو کھلم کھلا امریکہ کی تابع فرمان رہی تھی اور اس کے اشاروں پرناچتی رہی۔ جس سے ملک کو نقصان پہنچتا رہا۔ مگر جنرل (ر) مشرف نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے رکھی۔ مگر جمہوری حکومت کے معرض وجود میں آنے سے امید ہو چلی تھی کہ حکومت اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے گی مگر جمہوری حکومت نے دو ہاتھ آگے بڑھ کر امریکہ کے ساتھ تعاون شروع کر دیا ہے۔ جس کے سبب پہلے سے زیادہ بم دھماکے اور خود کش حملے ہو نا شروع ہو گئے ہیں جو ابتک جاری و ساری ہیں جس کی سزا عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 16 Mar 2010
|
| |
پاکستانی کرکٹ اورہاکی پر بدترین زوال |
|
 |
جس طرح حکومت اپنی ناقص کارکردگی کے سبب ڈانواںڈول ہے۔ اسی طرح کرکٹ اور ہاکی کا بھی
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 15 Mar 2010
|
| |
ہوشر با مالی گوشوارے |
|
 |
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اراکین اسمبلی نے تحریری طورپر اپنے اثاثوں کی جو تفصیل
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 07 Mar 2010
|
| |
بھارت کے ساتھ یہ مذاکرات بھی بے سود ثابت ہوئے |
|
 |
پاک بھارت سیکرٹریوں کی ملاقات کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ اہم مسائل پرنتیجہ خیز بات
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 06 Mar 2010
|
| |
اور نومولود آصف خان کے بھاگ کھل گئے |
|
 |
صدر اور وزیراعظم کی حفاظت سے کسی کو کوئی انکار نہیں۔ اگر وہ چاہیں تو خاموشی سے گھر
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 26 Feb 2010
|
| |
عوام کے لئے ایک ہفتے میں ایک گھنٹہ |
|
 |
آج ''اوصاف'' میں نمایاں خبروں کے پہلو میں ایک چھوٹی سی ایک کالمی سرخی پر نظر تھم کر رہ گئی
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 25 Feb 2010
|
| |
عوام کے لئے ایک ہفتے میں ایک گھنٹہ |
|
 |
آج ''اوصاف'' میں نمایاں خبروں کے پہلو میں ایک چھوٹی سی ایک کالمی سرخی پر نظر تھم کر رہ گئی جو کچھ یو
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|