| Updated at: 06 Sep 2010
|
| |
کہاں ہے عوامی قیادت |
|
 |
دریائے سندھ کی کیر تھر کنال میں شگاف پڑنے کے بعد ٹھٹھہ سجاول' شہداد کوٹ میں تباہی
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 05 Sep 2010
|
| |
امراء اور اشرافیہ کی ذمہ داریاں |
|
 |
قائد(ن) لیگ میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ' اپوزیشن لیڈر
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 02 Sep 2010
|
| |
کوتاہی کی گنجائش نہیں |
|
 |
صوبہ پختونخواہ میں موجود قدرت کے شاہکار سوات' کالام بشام' مینگورہ کے علاوہ
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 31 Aug 2010
|
| |
حلف کی پاسداری میں ہی سب کی بقا ہے |
|
 |
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پاکستان کے محب وطن فوجی جرنیلوں سے درخواست کی کہ وہ
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 30 Aug 2010
|
| |
مد د اور صرف مدد |
|
 |
باب الاسلام سندھ کے تقریباً 90 فیصد حصے سے لاکھوں لوگ سیلاب کی وجہ سے زندہ
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 29 Aug 2010
|
| |
شہر اقبال میں درندگی اور معاشرتی بے حسی |
|
 |
علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے شہر سیالکوٹ کی سڑکوں بازاروں میں جس طرح دو
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 28 Aug 2010
|
| |
اتحاد و اتفاق |
|
 |
پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی طرف سے پوری پاکستانی قوم کو ہبہ کیا گیا
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 27 Aug 2010
|
| |
حوصلے جواں |
|
 |
تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی امداد کے لئے جہاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 23 Aug 2010
|
| |
سیلاب زدگان کی مدد کیلئے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی |
|
 |
ارض پاکستان میں ماہ رمضان المبارک کے شروع میں ہی دو کروڑ کے لگ بھگ مسلمان
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|
| Updated at: 22 Aug 2010
|
| |
سیاسی خانوادے ایک نئی روایت قائم کریں |
|
 |
صدر پاکستان وزیراعظم وزرائے اعلیٰ اور میاں محمد نواز شریف سیلاب میں گھرے خاندانوں کی بزرگ ترین خاتون کو گلے لگا کر تسلی دے رہے ہوتے ہیں معصوم پھول جیسے بچوں اور بچیوں کو گود میں اٹھاتے ہیں تو گھروں میں موجود بوڑھی خواتین بزرگ اور بچے حقیقی طور پر خون کے آنسو ضبط نہیں کر سکتے اور درد دل رکھنے والی خواتین و بزرگ رات کو نیند نہیں لے سکتے تو بچے کھانا بند کر دیتے ہیں قدرتی آزمائش کی اس گھڑی میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک پھینکنے اور ایک تھیلے کے حصول کی خاطر درجنوں افراد کی جدوجہد اور ٹرکوں پر موجود امدادی سامان کی وصولی کے موقع پر ایک دوسرے سے گتھم گھتا خواتین و حضرات کو دیکھ کر تو ہر زبان سے استغفار کا ورد شروع ہو جاتا ہے۔ گزشتہ 18دنوں سے جاری یہ مناظر 12کروڑ محفوظ و مامون مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں۔ بجلی کی سہولت کے ساتھ مضبوط چھت کے مکان میں رہائش پذیر کروڑوں افراد سحری و افطاری میں اللہ کی تمام نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور سرکاری و کاروباری معاملات کو بھی بخوبی سرانجام دے رہے ہیں تو بارش طوفان کڑکتی دھوپ ناقابل برداشت جس مردہ جانوروں اور انسانوں کی آلائشوں سے بھرپور پانی کو بھی زندگی سمجھ کر قبول کر رہے ہیں خوشحال خاندان ایک کھجور پکوڑے سیب اور صاف پانی کو ترس گئے ہیں ایک ہی جوڑا لباس میں گھر بار چھوڑنے والے 15دنوں سے اسی گندے اور بدبودار لباس میں زندہ ہیں مچھروں کیڑوںمکوڑوں سے محفوظ رہنے کے لئے گھر میں چھڑکائو کرانے والے گندی بدبودار خالی زمین پر بغیر بستر تو کیا چادر کے ہیں۔ کمپیوٹر انٹرنیٹ اور اے سی میں وقت گزاری کرنے والے جس کرب اور مشکل میں مبتلا ہیں صرف وہ ہی احساس کر سکتے ہیں پورے ملک میں این جی اوز سرکاری اداروں اور بیرون ملک موجود امدادی اداروں نے جنگی بنیادوں پر لوگوں کے دکھ درد کو کم کرنے میں دن رات ایک کر دیا ہے موجودہ پارلیمان میں خواتین کی تعداد33فیصد ہے اور 67فیصد مرد حضرات کی خواتین سیاسی و مذہبی جماعتوں کی خواتین عہدیداران کو متحرک ہونا چاہیے اور اگر حکمرانوں کی اولاد یں مثلاً حسین نواز شریف' مونس الٰہی' بلاول زرداری ' حمزہ شہباز' سلمان تاثیر 'امیر ہوتی 'قائم علی شاہ' عشرت العباد اویس غنی' اسلم رئیسانی اور 1100اراکین پارلیمنٹ کے نوجوان بیٹوں کے ہمراہ اور بختاور بھٹو ' فاطمہ بھٹو ' شہباز شریف ' نواز شریف ' چوہدری شجادت آفتاب شیرپائو ' خورشید شاہ کی بیٹیوں کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی فہمید مرزا ' فرزانہ راجہ' عاصمہ ارباب عالمگیر' تہمینہ دولتانہ' شہناز وزیر علی' بیگم یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف نوجوان طلباء و طالبات اور این جی اوز کی خواتین کے ساتھ مل کر اپنے مظلوم و بے بس بہن بھائیوں کی افطاری کا بندوبست کریں اور اپنے ہاتھوں سے تازہ کھانا پکا کر کھلانا شروع کردیں۔ صرف 3ماہ کے لئے پاکستان سے عزت دولت حکومت حاصل کرنے والے خاندانوں کے بڑے یہ فیصلہ کرلیں کہ مشکل اور آزمائش کے اس وقت میں اپنے بچوں کو جذبہ انسانیت کے فروغ کی خاطر اور ہم ایک ہیں کے ون پوائنٹ نعرے کے تحت حکماً پابند کر دیں گے وہ فوراً متاثرہ علاقوں میں ننگے پائوں دن رات مدد کرنا شروع کریں۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ مشکل حالات کا شکار 2کروڑ پاکستانی اپنے وقتی دکھ درد کو بھلا کر ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیں گے کہ دنیا میں مثال بن جائیں۔ بیگم گیلانی' فریال تالپور تمام ممبران پارلیمنٹ کی بیگمات1965ء اور 1971ء میں ارض پاک کے چپہ چپہ کی حفاظت پر مامور جری اور دلیر جوانوں کے جس طرح حوصلے بلند کرتی رہیں اور سب سے بڑھ کر تحریک پاکستان میں مادر ملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان بیگم نشر طول و عرض میں اپنے مرد قائدین کے شانہ بشانہ تھیں اسی جذبے اور لگن وجوش کی ضرورت ہے۔
تصور کریں کہ بلاول بھٹو زرداری حسین نواز حمزہ شہباز' مونس الٰہی امدادی سامان کے ٹرکوں کے قافلے کے سالاروں کے طور پر ننگے سر ٹرک کی چھت پر موجود ہوں بختاور آصفہ ڈاکٹر گل لالہ دوائیوں اور دریوں قناعتوں کے قافلے میں ایک ہی ویگن میں سوار ہوں فریال تالپور فہمیدہ مرزا بیگم تہمینہ دولتانہ فردوس عاشق اعوان چاروں گورنرز وزراء اعلیٰ کی بیگمات کے ہمراہ آٹا چینی گھی اور کھجوروں سے لدلے ٹریلے کو لے کر امدادی کیمپ میں پہنچیں اور راولپنڈی سے ملتان تک اٹک سے پشاور ' کراچی سے گوادر کی ہر سڑک پر لیڈی ڈاکٹرز نرسز کے ہمراہ ہر سیاسی جماعت کی ممبر پارلیمنٹ بمعہ اپنی اپنی تنظیم کے سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ فاطمہ جناح کی تصویر تلے اپنے بزرگوں بھائیوں بیٹوں سے امدادی اپیل کر رہی ہوں تو کیا پاکستان کی سرزمین پر اجناس دوائیاں' چارپائیاں بستر اتنے جمع نہ ہو جائیں کہ ہمارے پاس جگہ کم پڑ جائے دونوں بڑے قائدین نے زندہ قوم کے رہنمائوں کا حق ادا کر دیا ہے اور قوم کو اس مشکل گھڑی میں بھی تقسیم کرنے والوں کو خاموش کرا دیا ہے۔
گزشتہ 63سالوں سے قوم اپنے نمائندوں سے ناامید نہیں ہوئی اور بار بار درستگی کی خاطر مواقع فراہم کرتی رہی ہے دنیا کی تاریخ میں ہم واحد بکھری ہوئی لیکن مثالی قوم ہیں کہ مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ زندہ دلی سے کرتے ہیں اور آزمائشوں میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے منتخب نمائندگان ان کا خاندان اولاد ' بیویاں' بیٹیاں بیٹے صرف 63دن اپنے مظلوم بے بس اور مدد کے حق دار 2کروڑ پاکستانیوں کی دلجوئی کے لئے صرف کر دیں تو قدرت کی طرف سے دی گئی خصوصی عنایت کے ذریعے ایک تو 2کروڑ افراد کی پریشانی محرومی اور تکالیف کو موقع پر دیکھ کر انہیں آزمائشوں اور تکالیف کا مقابلہ کرنے کا تجربہ ہوگا تو دوسرے آج کی آبادی کے 63فیصد نوجوان اثاثہ کی امیدوں کو یقین میں بدلنے کے اقدامات سے آگاہی حاصل ہوسکے گی میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی نے جہاں قومی یکجہتی کی مثال قائم کر دی ہے وہاں اپنے خاندان کی بزرگ خواتین نوجوانوں اور بیٹیوں' بہوئوں کو اپنی سیاسی وزراء ممبران اور پارٹی عہدیداران کو بھی فوراً متحرک کریں۔
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
|