|
![]() |
||
| Updated at: Sunday,29 January 2012 | |||
کراچی میں مولانا فضل الرحمان کا تاریخی جلسہ |
|||
|
کراچی میں مزار قائد پر ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکہ سے آقا اور غلام کا رشتہ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قربانیوں کا صلہ رسوائیوں کی صورت میں مل رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں اسٹیبلشمنٹ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کی جانب سے مسلمانوں کو تذلیل، قرآن پاک کی توہین اور اسلام دشمن اقدام ہمیں انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مغرب کی انتہا پسندی کے خلاف ہمیں بھی انتہا پسندانہ پالیسی بنانے کا حق ہے۔ آزادانہ خارجہ پالیسی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
سب سے پہلے تو ہم مولانا فضل الرحمان کو مزارقائد پر ایک تاریخی جلسہ عام منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس بات کی بھی تحسین کرتے ہیں کہ اس کا آغاز اور اختتام اسلامی طریقے سے کیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان جو رشتہ یا تعلق ہے اسے آقا اور غلام کے رشتے کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان کا نظام سیاست ہو یا فوج، امریکہ نے ہر معاملے میں نہ صرف ٹانگ اڑائی بلکہ پاکستان میں حکومتیں بنانے اور توڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا۔ دنیا کے ہر ملک کے سفیر کو اسلام آباد میں سفیر ہی کا درجہ حاصل رہا۔ لیکن امریکی سفیر کو وائسرائے والا درجہ حاصل رہا۔ ایک وقت تھا جب طاقت کا اصل سرچشمہ اللہ کی ذات اور اس کے بعد عوام کو کہا جاتا تھا لیکن جب امریکی اثر و نفوذ ہمارے سسٹم میں بہت زیادہ سرایت کر گیا تو سیاستدانوں نے طاقت کا سرچشمہ امریکہ کو بنا لیا اور یوں حکومت سازی کے لئے واشنگٹن پر بہت زیادہ انحصار کیا جانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں نے عوام کو ڈلیور کرنے کی بجائے واشنگٹن کو ڈلیور کرنا شروع کر دیا۔ یوں آقا اور غلام والا رشتہ اور پختہ ہوتا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں بڑی دلچسپ بات کہی کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے۔ یاد رہے کہ سیاستدان اپنی تقریروں اور بیانات میں جب فوج کے حوالے سے کوئی بات کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ہماری دانست میں مولانا فضل الرحمان نے یہ بات گہرے تجربات اور مشاہدات کے بعد کہی ہوگی لیکن بہرحال یہ بہت ہی غور طلب نکتہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی راہ میں رکاوٹ کیوں ہے؟ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے سوچ کے جو نئے در دا کئے ہیں اس پر اہل فکر و نظر یقینا گہرا غوروخوض کریں گے اور ہم بھی اس نکتے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے لیکن جہاں تک ہماری سوچ کا تعلق ہے تو پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ اول وہ سیاستدان جو اسلام کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں کیونکہ اسلامی فلاحی ریاست میں بدعنوانی کا کلچر پروان چڑھ سکتا ہے اور نہ ہی سزائوں سے بچ نکلنے کا کوئی موقع ہوتا ہے۔ دوم وہ بیورو کریسی جو آج بھی انگریز کے سٹائل میں کام کرتی ہے۔ بیورو کریٹس اور ان کے گھرانے عموماً لبرل قسم کے ہوتے ہیں اور بیورو کریسی میں بدعنوانی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے سو یہ لوگ بھی اسلامی فلاحی ریاست کی بات نہیں کرتے کیونکہ تعزیریں بہت سخت ہیں اسلام میں۔ جرنیل بھی خاصے لبرل ہوتے ہیں۔ وہ بھی اسلام پسندوں کو ایک حد تک ہی سپورٹ کرتے ہیں۔ فقط اتنی کہ پارلیمنٹ میں ان کی کچھ نہ کچھ نمائندگی نظر آئے۔ اتنی نہیں کہ پورا اقتدار ان کے پاس چلا جائے۔ آج کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی لبرل ازم سے متاثر ہے جس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ ایک رکن پنجاب اسمبلی کامران سیمل نے جب پنجاب کے سکولوں اور کالجوں میں غیر اخلاقی میوزیکل کنسٹرٹس پر پابندی کی قرارداد پیش کی تو ایک نجی چینل نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اتنا طوفان مچایا کہ لگا جیسے ایک اور نائن الیون برپا ہوگیا ہے، اس چینل نے نو بجے کے خبرنامے میں پہلے 32منٹ تک صرف اس ایک خبر کو مختلف زاویوں سے چلایا اور صرف ان لوگوں کی آراء پیش کیں جو ناچ گانے کے حق میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو ایک بار پھر اس بات کی مبارکباد دیتے ہوئے کہ انہوں نے ایک تاریخی اجتماع منعقد کرنے کے باوجود ،،سونامی والوں،، جیسا شور نہیں مچایا، ان کی خدمت میں ایک بہت اہم بات عرض کرتے ہیں کہ پاکستان اس لحاظ سے بہت ہی بدقسمت ملک ہے کہ جس کے ٹاک شوز میں ننگے سر بیٹھی ایک گانے ناچنے والی ، دوسری نشست پر بیٹھے عالم دین سے کہتی ہے کہ آپ ہم سے زیادہ اسلام کو نہیں جانتے۔ یہ وہ ملک ہے جس میں98 فیصد مسلمان ہیں لیکن اکثریت اسلامی نظام نہیں چاہتی ورنہ یہ لوگ لبرل سیاسی جماعتوں کے بجائے دینی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجتے۔ |
|||
|
|||
| Share on Facebook | |||
|
|||