Daily Ausaf:: مظفر آباد میں شہدائے کشمیر کانفرنس
Updated at:  Thursday,15 July 2010
مظفر آباد میں شہدائے کشمیر کانفرنس
یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر مظفر آباد میں ایک عظیم الشان شہدائے کشمیر کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر ' متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین ' عبد الرشید ترابی اور حریت کانفرنس سے تعلق رکھنے والے زعماء نے خطاب کیا۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے منسلک کیا جائے۔ اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات سہ فریقی ہونے چاہئیں۔ مذاکرات کا فوکس مسئلہ کشمیر ہونا چاہیے۔ تقسیم کشمیر ' مشترکہ کنٹرول ' داخلی خودمختاری فضول باتیں ہیں۔ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارت پر دبائو کے لئے سفارتی مہم چلائے۔
سب سے زیادہ جاندار خطاب سید صلاح الدین کا تھا جنہوں نے حکومت پاکستان کو واضح لفظوں میں کہا کہ اگر وہ مسئلہ کشمیر کو آگے نہیں بڑھاسکتی تو اپنے موقف سے دستبردار ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی اپنے زور بازو سے شروع کی اور اس کی آبیاری بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سرزمین کو مقدس سمجھتے ہیں اور اسے کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے نہتے عوام 18کروڑ پاکستانی مسلمانوں کو پکار رہے ہیں۔
کانفرنس کے شرکاء کی تعداد کو مدنظر رکھا جائے تو یہ مظفر آباد کی تاریخ کی ایک ریکارڈ ساز کانفرنس تھی اور اس کانفرنس میں شامل زعماء کے موقف کو سامنے رکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ کشمیریوں میں بیداری اور استواری کی ایک نئی لہر پیدا ہوچکی ہے دوسرے لفظوں میں کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور سید صلاح الدین کی تقریر اس کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے دو ٹوک لفظوں میں پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ اگر وہ مسئلہ کشمیر کو آگے نہیں بڑھاسکتی تو موقف سے دستبردار ہو جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جائز اور مبنی برحق مطالبہ ہے کیونکہ کشمیر پر ''لپ سروس'' بہت ہوچکی۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں سے حکومت پاکستان ' کشمیریوں کی سیاسی ' سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے۔ جیسے گھسے پٹے بیانات جاری کر دیتی ہے لیکن عملی طور کچھ بھی نہیں کرتی۔ یہ کیسی سیاسی اور سفارتی امداد ہے کہ کشمیر جل رہا ہے۔ نوجوانوں کی لاشیں گرائی جارہی ہیں۔ کرفیو لگا کر انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ وہ اس موقع پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کو متوجہ کرتے۔ حکومت پاکستان کو جان لینا چاہیے کہ اب زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا۔ یا تو کھل کر کشمیریوں کی مدد کی جائے یا کشمیریوں کو بتا دیا جائے کہ ہم ان کی مدد نہیں کرسکتے۔ ان حکمرانوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ کشمیریوں پر کیا گزر رہی ہے؟ آٹھ سالوں تک مشرف ان کے جذبات و احساسات کے ساتھ کھلواڑ کرتا رہا۔ آٹھ برسوں تک تحریک آزادی کے ساتھ سنگین مذاق ہوتا رہا اور جب پاکستان میں جمہوری حکومت قائم ہوئی تو اس سے توقع تھی کہ وہ جہاں مشرف کی دیگر پالیسیوں کو تبدیل کرے گی وہیں مشرف کی بزدلانہ کشمیر پالیسی کو بھی تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگائے گی لیکن وائے افسوس اس حکومت نے مشرف کی بہت ساری پالیسیوں میں تبدیلی کی لیکن اس کی کشمیر پالیسی کو اسی طرح جاری رکھا۔ اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیری پاکستان کی خاطر اپنا قیمتی لہو بہارہے ہیں۔ اگر انہیں اس بات کا احساس ہے کہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے درمیان کوئی رشتہ ہے تو پھر موجودہ کمزور ' بزدلانہ اور مصلحتوں میں گندھی ہوئی کشمیر پالیسی کو بدلیں اور بھارت کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہ کریں جب تک وہ کشمیر پر سہ فریقی اور بامقصد مذاکرات کی ہامی نہیں بھرلیتا۔
اگر بھارت یہ سب کچھ کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو پھر ہم نے بے مقصد اور فضول مذاکرات سے کیا حاصل کرنا ہے؟ آلو پیاز کی تجارت سے کسی پاکستانی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ ویزوں میں نرمی ' ثقافتی وفود کے تبادلے اور بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش میں بھی کسی پاکستانی کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ کشمیر کو آزاد دیکھنا ہر پاکستانی کا خواب اور نصب العین ہے اور اگر حکومت اس نصب العین کو آگے لے کر نہیں بڑھے گی تو وہ بہت خسارے کا سودا کرے گی کیونکہ جو حکمران زبان خلق کو نقارہ خدا نہیں سمجھتے وہ عوام کے اندر اپنی قدر کھو دیتے ہیں اور سیاسی طور پر شدید نقصان اٹھاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سید صلاح الدین اور سید علی گیلانی جیسے بزرگوں کا بڑا پن ہے کہ وہ سنگین نوعیت کی زیادتیوں کے باوجود آج بھی پاکستان کے ساتھ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرف کے آٹھ سالہ دور میں ان بزرگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی کمزور دل و دماغ کے شخص کے ساتھ ہوا ہوتا تو وہ اپنے موقف سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتا۔
شائد بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگی کہ مشرف کی آٹھ سالہ کشمیر پالیسی نے کشمیریوں کو پاکستان سے سخت بدگمان کر دیا تھا۔ جوشیلے نوجوان بپھرے ہوئے تھے۔ ایسے میں یہ صلاح الدین اور علی گیلانی جیسے بزرگ ہی تھے جنہوں نے جذبات کے اس لاوے کو پھٹنے سے روکے رکھا۔ اگر یہ لاوا پھٹ جاتا تو آج ہم بہت کچھ گنوا چکے ہوتے۔
یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں کشمیریوں کی سیاسی ' اخلاقی اور سفارتی امدادکرتا تو آج مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آچکا ہوتا۔ اس حوالے سے نہ صرف ہمارا دفتر خارجہ مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہو رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی سفارت خانے بھی گھوڑے بیچ کر سوئے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فتور نیتوں میں ہے۔ اگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمارے حکمرانوں کی نیت ٹھیک ہوتی تو وہ یوم شہدائے کشمیر کو پورے پاکستان میں زبردست اہتمام کے ساتھ مناتے۔ اس حوالے سے جلسوں کا اہتمام کیا جاسکتا تھا ' جلو س نکالے جاسکتے تھے' سیمینار منعقد کیے جاسکتے تھے جن میں صدر اور وزیراعظم بھی شرکت کرتے۔ اس دن کی مناسبت سے صدر اور وزیر اعظم کو اپنے پیغامات جاری کرنے چاہئیں تھے لیکن انہیں عالمی یوم آبادی کے موقع پر پیغام جاری کرنے تو یاد رہے لیکن یوم شہدائے کشمیر کو انہوں نے کوئی اہمیت نہیں دی۔
افسوس تو یہ ہے کہ اس دن کی مناسبت سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن ' جماعت اسلامی پاکستان اور میاں نواز شریف نے بھی کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان لوگوں کو ہو کیا گیا ہے؟ ان لوگوں کو تو جیسے یہ احساس ہی نہیں کہ کشمیری الحاق پاکستان کے لئے کتنی طویل جنگ لڑ رہے ہیں اور پاکستان سے حمایت کی بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو اب ان رویوں کے خلاف کھل کر اپنی بیزاری کا اعلان کر دینا چاہیے اور کشمیر کی آزادی کے لئے سڑکوں پر آجانا چاہیے تاکہ کشمیری قوم پاکستانی حکمرانوں اور عوام کے درمیان پائے جانے والے فرق کو سمجھ سکے۔
مزید خبریں
Share on Facebook
Mehtab Publications Pvt (Ltd)
Copyright 2010 All rights reserved.