|
![]() |
||
| Updated at: Thursday,08 July 2010 | |||
گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور غریب عوام میں پھیلی مایوسیاں |
|||
|
آئیل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے قدرتی گیس کے گھریلو صارفین کے لئے نئے سلیبس کے مطابق قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت گھریلو صارفین کے لئے قیمتوں میں ساٹھ فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے سو مکعب میٹر تک گیس استعمال پر نرخ95روپے جبکہ 500مکعب میٹر یا اس سے زائد پر 1006.40روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگا۔ کمرشل و صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنوں کے لئے پرانے نرخ برقرار رکھے گئے ہیں او گرا کے مطابق سو مکعب میٹر تک نرخ99روپے تھے جو آئندہ بھی رہیں گے100سے 200مکعب میٹر تک پہلے نرخ9روپے تھے جو بڑھا کر 190روپے کر دئیے گئے ہیں دو سو سے تین سو تک سابقہ نرخ181روپے تھے جو اب بڑھ کر 190ہوئے ہیں تین سو سے چار سو تک سابقہ نرخ 383روپے تھے جو اضافے کے بعد اب 800روپے کر دئیے گئے ہیں۔ پانچ سے چھ سو تک سابقہ نرخ 640روپے تھے جو اضافے کے بعد 1006.40روپے ہوئے ہیں جبکہ کم از کم ماہانہ چارجز188روپے مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
ملک کے طول و عرض میں مہنگائی' بے روزگاری اور معاشرتی ناانصافیوں کے ستائے لوگ جہاں اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے سے قاصر آکر خودکشیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں وہاں توقع کی جارہی تھی کہ شاید ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہو اور وہ اپنی پالیسیوں میں ایسی تبدیلیاں لائیں گے کہ زندگی سے ناامید لوگوں میں امید کی کرنیں پھوٹ سکیں۔ حکمران خوف خدا کرکے غریب عوام پہ رحم کریں گے اور مہنگائی و غربت سے نجات دلانے کے لئے عوام دوست پالیسیاں مرتب کریں گے لیکن یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے جیسے جیسے غربت کے ستائے ہوئے لوگ زندگی سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگا رہے ہیں ایسے ایسے حکمران ان غریبوں پہ ترس کھانے اور خوف خدا کرنے کے بجائے مزید ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ جس سے اگر کچھ امید کے چراغ جل بھی رہے تھے تو وہ بجھ رہے ہیں اور چاروں طرف مایوسیوں ' وحشتیوں' ہولناکیوں اور عوام دشمن پالیسیوں کا راج ہے۔ سوال یہ ہے کہ غریب لوگوں کے منہ سے نوالہ چھیننے والی یہ پالیسیاں کب تک جاری رہیں گی اور ان عوام دشمن پالیسیوں کا انجام کیا ہوگا۔ افسوس ناک بات یہ نہیں کہ مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے ظلم تو یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں سے خوف خدا' انسانیت سے ہمدردی اور احساس بھی رخصت ہو رہا ہے اور مسلسل وہ پالیسیاں اپنائی جارہی ہیں جن سے معاشرے تباہی کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے خطرے کی علامت کو چھو رہے ہیں دیکھا جائے تو اس تشویشناک صورتحال سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکمران اور عوام کے درمیان سوائے ووٹ کی پرچی کے کوئی تعلق نہیں۔ بدقسمتی سے نہ تو حکمرانوں کے رویے' چال چلن' انداز حکمرانی اور مزاج عوام سے ملتے ہیں بلکہ فاصلوں کی یہ فصیل اس قدر بلند ہو چکی ہے کہ اقتدار کے اونچے ایوانوں میں رہنے والے حکمران سسکتے اور بلکتے غریب عوام کے دکھوں اور مسائل سے بھی نابلد ہوتے جارہے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندے خودکشیوں پہ تشویش کا اظہار کرنے کی بجائے زہر آلود بیان دیتے ہیں کہ ''جو پیدا ہوا اس نے مریا ہی ہے' موت کو کون روک سکتا ہے'' جس معاشرے اور ملک کے حکمرانوں و سیاستدانوں کے عوام کے دکھوں اور مسائل کے بارے میں اس قسم کے خیالات ہوں تو ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ عوام کے لئے بھلائی کا کوئی کام کر سکیں۔ بجلی کی قیمتوں میں پہلے ہی اس قدر زیادہ اضافہ کیا گیا ہے کہ درمیانہ آمدنی والے افراد اگر بجلی کا بل ادا کرتے ہیں تو گھر کے دیگر اخراجات کے لئے رقم نہیں بچتی5000سے 8000آمدن والے گھر کا اگر بجلی اور گیس کا بل5000آئے تو دیگر اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے اب گیس کے بلوں میں ریکارڈ اضافہ کرکے غریب عوام کے لئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دئیے گئے ہیں حیرت ہے کہ جس ملک میں لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے روٹی پوری نہ کر سکنے کی وجہ سے مایوس ہو کر خودکشیاں کر رہے ہیں وہاں حکومت آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے گیس' بجلی اور ضروریات زندگی کی اشیاء حد درجے مہنگی کرکے اشرف المخلوقات کو زندہ لاش بنا رہی ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی گونج میں اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے والی عوامی حکومت اگر جمہوریت اور عوام دوستی کا راگ الاپتے ہوئے اس قسم کے اقدامات کرے گی تو سوال یہ ہے کہ ایسی جمہوریت کے بارے میں لوگ کیا رائے رکھیں گے کیا جمہوریت اس کا نام ہے کہ جس میں حکمران و سیاستدان تو اللوں تللوں میں مگن ہوں اور عوام روٹی کے ایک نوالے کے لئے ترستے ہوئے اپنے لخت جگر کو زہر کے ٹیکے لگا کر مار رہے ہیں گیس اور بجلی کے بل غریب عوام کے لئے یہ ہر ماہ تازیانے کی طرح برس رہے ہیں اور وہاں دوسری طرف حکمران اور سیاستدان بھاری بھر کم' حکومتی اخراجات اور اللوں تللوں سے تائب ہونے کی بجائے عوام کو زندہ درگو کرنے کے لئے ہر روز ایک نیا منی بجٹ لاتے ہیں۔ بجلی کی قلت کا عوام کو اندازہ ہے جس کی وجہ سے عوام خاموش ہیں مگر گیس تو ہمارای اپنی پیداوار ہے گیس کے بلوں میں اس قدر زیادہ اضافہ عوام کی برداشت سے باہر ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے اس اعلان پہ نظرثانی کرے اور عوام کے لئے مشکلات میں اضافے کی بجائے آسانیاں پیدا کرے۔ |
|||
|
|||
| Share on Facebook | |||
|
|||