Daily Ausaf:: مذہب کے نام پر خون بہانا بچوں کو اوزار جنگ بنانا گناہ کبیرہ ہے،زرداری
Updated at: Friday,19 March 2010
مذہب کے نام پر خون بہانا بچوں کو اوزار جنگ بنانا گناہ کبیرہ ہے،زرداری
اسلام آباد (اے پی پی) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اقتدار اور قومی خزانہ عوام کی مقدس امانت ہیں، اس کا حساب لیا جائے گا، لہٰذا اس امانت کی شفاف اندازمیں حفاظت کو یقینی بنایا جائے، خیانت نہیں کرینگے۔ خواتین اور مردوں کیلئے برابر کے حقوق بھٹوازم کے فلسفہ کا اہم جزو ہے، مستقبل میں وسائل میں اضافہ سے پاکستان
ایک خود کفیل ملک کے طور پر ترقی کرے گا اور آنے والی نسلوں کو تعلیم و تربیت، صحت سمیت بہتر سہولیات اور روشن مستقبل دے سکیں گے۔ مذہب کے نام پر انسانیت کا خون بہانا اور بچوں کو گمراہ کرکے اوزار جنگ بنانے سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو ایوان صدر میں مستحق اور غریب خواتین میں ''شادی پیکیج'' کے تحت امدادی رقوم کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر مملکت کے فراہم کردہ فنڈز سے پاکستان بیت المال ملک بھر سے 25 سو لڑکیوں کی شادی کے اخراجات کیلئے (فی کس 40 ہزار روپے)10 کروڑ روپے کی امدادی رقوم تقسیم کرے گا۔ تقریب میں وفاقی وزیر سماجی بہبود و خصوصی تعلیم ثمینہ خالد گھرکی، ایم ڈی بیت المال زمرد خان، چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے سماجی بہبود روبینہ قائم خانی، ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقوں بالخصوص خواتین کی مدد کے نیک مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے۔ صدر نے کہا کہ خصوصی افراد کیلئے معذور کارڈ بنایا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ ملک میں کتنے معذور اور گھرانوں میں کتنے بیمار افراد موجود ہیں۔ صدر نے کہا کہ یہ عوام کا پیسہ ہے اور ہمارے پاس ایک امانت ہے، حکومت عوام کی ایک امانت ہے۔ اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ اس میں خیانت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ غفلت بھی ایک گناہ ہے، اس کا بھی حساب لیا جائے گا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام باصلاحیت ہیں، پاکستان میں جتنی سخاوت ہوتی ہے وہ شاید دنیا میں کہیں نہیں ہوتی تاہم بعض گمراہ عناصر ہیں جو ایسی رقوم اور مذہب کا نام استعمال کرکے اسلام اور ملک کیلئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو مار رہے ہیں، اسلام میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ صدر نے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنا، بچوں کو گمراہ کرنا اور آلہ جنگ بنانا بہت بڑا گناہ ہے، ہمیں آنے والی نسلوں کو اس لعنت سے بچانا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ نئی نسل کو بنیادی سہولیات اور ضروریات فراہم کی جائیں، ان سے محبت کی جائے۔ صدر نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کو جانشین بنا کر ثابت کر دیا کہ ان کی نظر میں مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں تھا، اگر شہید بھٹو کی بیٹی جیل جا سکتی ہے اور باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہادت پا سکتی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد و خواتین میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا۔ صدر نے کہا کہ ہماری سوچ بھٹو ازم کی سوچ ہے، پاکستان خود کفیل ہو گا اور آنے والی نسلوں کو بہتر تعلیم و تربیت اور مستقبل دے سکیں گے۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ضرورت مندوں کی اعانت کرنا ہر ایک کا فرض ہے، فلاحی ریاستی منزل، این جی اوز اور متمول طبقوں کی طرف سے اخلاقی اور مالی امداد کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب سادگی پر زور دیتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ متمول افراد اور خاندان سادگی کی مثال قائم کریں۔ قبل ازیں صدر مملکت نے مستحق خواتین میں شادی پیکیج کے تحت امدادی رقوم کے چیک تقسیم کئے۔ وفاقی وزیر سماجی بہبود و خصوصی تعلیم ثمینہ خالد گھرکی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت سماجی بہبود و خصوصی تعلیم محروم طبقات کی سماجی و اقتصادی بحالی کیلئے کوشاں ہے، اس سلسلہ میں فنی و پیشہ وارانہ تعلیم، زچہ و بچہ کے مراکز، معذور افراد کی بحالی سمیت متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ پاکستان بیت المال کے ایم ڈی زمرد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ایک خواب کی تکمیل ہونے جا رہی ہے جو ملک کی بچیوں کو اپنی بچیاں سمجھتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی جانب سے 10 کروڑ روپے بیت المال کو ملا ہے جو 25 سو بچیوں کی شادی کے اخراجات کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مزید فنڈز بھی فراہم کئے جائیں گے۔ زمرد خان نے کہا کہ انہوں نے اس بات کا عزم کر رکھا ہے کہ بیت المال میں کسی قسم کی کرپشن نہیں ہونے دی جائے گی۔