Daily Ausaf:: میرانشاہ ،مزائل حملے میں القاعدہ رہنما حسین ایمنی ماراگیا،امریکی حکام کی تصدیق
Updated at: Friday,19 March 2010
میرانشاہ ،مزائل حملے میں القاعدہ رہنما حسین ایمنی ماراگیا،امریکی حکام کی تصدیق
واشنگٹن (آن لائن) امریکی حکام نے میرانشاہ میں گزشتہ ہفتے کئے گئے ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما حسین الیمنی کے مارے جانے کی تصدیق کردی ہے جبکہ قبائلی علاقوں میں 2004ء کو شروع ہونیوالے امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جن میں تین درجن سے زائد القاعدہ اور طالبان رہنمائوں کے مارے جانے کے دعوے کئے جارہے ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا آغاز جنوبی
وزیرستان سے ہوا 28اپریل2004ء کو پہلے ڈرون حملے میں مقامی طالبان کمانڈر نیک محمد ہلاک ہوئے اور اس کے بعد ڈرون حملوں کا سلسلہ ایسا چلا کہ آج تک جاری ہے قبائلی علاقوں میں گزشتہ پانچ سال کے دوران امریکی ڈورن کے 195حملے ہوچکے ہیں جن میں رواں سال ہونے والے 26حملے بھی شامل ہیں القاعدہ اور طالبان کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کو کچلنے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوا تو پاکستان کی داخلی خود مختاری و سلامتی پر اٹھنے والے سوالات دن بدن بڑھنے لگے تاہم امریکہ نے کسی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے اہداف کا تعاقب جاری رکھا ڈرون حملوں میں امریکہ کو مطلوب القاعدہ ارکان کو ہلاک کرنے میں مدد ملی اور اب تک 3 درجن کے قریب القاعدہ اراکین اور اہم رہنما مارے جاچکے ہیں امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے القاعدہ رہنمائوں میں شیخ ہارون المصری' سلمان الجزائری' حمزہ ربیعہ' نجم الدین ہایوف' شیخ منصور' محمد حقانی' اسامہ القائمی' شیخ منصور صومامی' خالد بن حبیب' شیخ مسعود' اسلم السوڈانی' ابوایوب المصری' عبدلاعظم السعودی ابوزبیر المصری' محمد محمدی زیدان' عبداللہ سعید المصری' سید عبدالرحیم عبدالعثمان' ابورفع السعودی' ابوعبید السوریہ کے علاو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود اور سیون سیون لندن دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ راشد رئوف بھی شامل ہے سال 2009ء میں جہاں جاسوسی طیاروں کے گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ دیکھاگیاہے وہاں ڈرون طیاروں کی پروازیں بھی بڑھی ہیں اور مشتبہ مقامات پر ایک کی بجائے پانچ سے دس ڈرون طیارے پرواز کرتے رہتے ہیں ڈرون حملوں میں جہاں مقامی لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے وہیں طالبان اورشدت پسند بھی راہ فرار اختیار کرتے جارہے ہیں ادھرامریکی اہلکاروں کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں خوست میں سی آئی کے اڈے پر خطرناک حملے میں مطلوب القاعدہ کے اہم رکن پاکستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق القاعدہ کے اہم منصوبہ ساز حسین الیمنی گزشتہ ہفتے میران شاہ میں ایک میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔اہلکاروں کا خیال ہے کہ انہوں نے افغانستان کے شہر خوست میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں ایک خودکش بمبار نے سات سی آئی کے اہلکار اور اردن کی خفیہ ایجنسی کے افسر کو ہلاک کیا تھا۔یمنی کی عمر بیس اور تیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہے اور وہ بم بنانے اور خود کش حملوں کی منصوبہ سازی کے ماہر مانے جاتے تھے۔امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یمنی کے عرب ممالک میں القاعدہ اور پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ رابطے تھے۔امریکی میڈیا پر آنے والی رپورٹس کے مطابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ڈرون حملے میں مارے جانیوالے پندرہ افراد میں اہم القاعدہ رہنما حسین الیمنی المعروف غزورن المہدی بھی شامل تھا حکام کے مطابق وہ نہ صرف القاعدہ کے لوگوں کو بھرتی کرتا بلکہ انہیں تربیت بھی دیتا تھا افغانستان میں سی آئی اے چوکی پر خود کش حملہ اس کی نگرانی میں ہوا تھا جس میں سی آئی اے کے 8 ایجنٹ مارے گئے تھے۔