Daily Ausaf:: صدر علامتی ہونا چاہئے،سوات اور وزیرستان میں استحکام تک نیا آپریشن نہیں کرینگے ، گیلانی
Updated at: Thursday,18 March 2010
صدر علامتی ہونا چاہئے،سوات اور وزیرستان میں استحکام تک نیا آپریشن نہیں کرینگے ، گیلانی
اسلام آباد (آن لائن، اے پی پی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صدر اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں توازن ہونا چاہیے' صدر علامتی سربراہ ہونا چاہیے' عدلیہ کو فوری بحال نہ کرنا میری سب سے بڑی غلطی تھی' حکومت کو قبائلی علاقوں میں نئے آپریشن شروع کرنے کی کوئی جلدی نہیں اور حکومت عسکریت پسندوں سے پاک کئے گئے علاقوں میں استحکام پر زیادہ توجہ مرکوز رکھے گی۔ بدھ کو برطانوی روزنامے فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کرنا ہے کہ مزید علاقوں میں کب فوجی کارروائی شروع کی جائے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیحات میں سے ایک ملٹری فورسز کے لئے ایگزٹ سٹریٹجی پر کام کرنا ہے۔ وزیراعظم نے ہائی ویلیو ٹارگٹس کو گرفتار کرنے کی کامیابی کا اعتراف کیا تاہم خبردار کیا کہ فوجی محاذ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے' عسکریت پسند گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں اور اب وہ پہاڑی علاقوں میں کمین گاہیں نہ ملنے کے سبب ملک کے انتہائی گنجان علاقوں میں حملے کر رہے ہیں۔ پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات کو بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی دور کرنے کا درست ذریعہ ثابت ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تعلقات کو اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے بھارت کی طرز پر امریکہ سے سول جوہری معاہدے کے بارے میں کہا کہ اگر اس حوالے سے امتیازی سلوک ہوا تو خطے میں استحکام نہیں ہو سکے گا۔ اس سوال پر کہ آیا پاکستان امریکہ سے دو ارب ڈالر کے واجبات' ساڑھے سات ارب ڈالر کیری لوگر بل کے تحت امداد اور فرینڈز آف پاکستان سے ساڑھے پانچ ارب روپے ملنے کا منتظر ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ کم سے کم رقم ہے۔ ہم جنگی اخراجات کے ساتھ ساتھ بے گھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال' انفراسٹرکچر اور استعداد کار بڑھانے پر بے پناہ اخراجات کر رہے ہیں۔ افغانستان میں مفاہمت کے عمل کے بارے میں پاکستان کی حکمت عملی کے متعلق وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں استحکام حاصل نہیں کیا جاسکتا اور پاکستان افغانستان کی مدد کرنے کی انتہائی منفرد پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کو اس کی پولیس اور فوج کو تربیت دینے کی پیشکش کی ہے۔ صدر' وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات کے توازن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صدر علامتی سربراہ ہونا چاہیے اور صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات کا توازن ہونا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے عمل کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر دونوں ممالک کے عوام کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے' ہم بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ دہشتگردوں سے چھینے گئے علاقوں میں استحکام تک نئے علاقوں میں آپریشن نہیں ہوگا ، سوات اور جنوبی وزیرستان سے فوج کی واپسی ترجیحات میں شامل ہے ،پاکستان ایسا ملک ہے جو افغانستان میں استحکام کیلئے حقیقی معنوں میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملا برادر سمیت القاعدہ کے اہم لیڈروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے تاہم پہاڑوں پر شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد انہوں نے پاکستان کے شہروںکا رخ کرلیا ہے اور وہ شہری علاقوں میں اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کا مسئلہ ہے اس کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس سلسلے میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مختلف شعبوں میں بات چیت کا عمل بھی جاری ہے انہوں نے بھارت کی طرز پر امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ہماری پہلی جو ترجیحی ہے وہ خطے میں استحکام ہے اور جب ہم اس مقصد میں کامیاب ہونگے تو پھر اس معاملے پر بھی بات چیت ہوگی انہوں نے کہا کہ امریکی اور اوبامہ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی بہتری کی خواہاں ہے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں امریکہ اور امریکی ایوان ایسی قانون سازی کررہے ہیں جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے تاہم اس سلسلے میں اسے وسائل کی کمی کا بھی سامناہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے معاونت کی جائے تاکہ ہم دہشتگردی کیخلاف بہتر انداز میں نمٹ سکیں وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اس چیلنج سے نمٹیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے مالاکنڈ ، سوات اور جنوبی وزیرستان میں کامیاب آپریشن کئے انہوں نے کہا کہ یہاں ان علاقوں سے دوران آپریشن بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے آئے لیکن حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے باعث انسانی المیہ پیدا نہیں ہوا اور ہم نے ان علاقوں میں آپریشن مکمل کرنے کے بعد تین ماہ کے عرصے کے اندر آئی ڈی پیز کو واپس ان کے گھروں میں بھیج دیا وزیراعظم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان علاقوں میں اب تعمیر نو کا عمل ہو اس کیلئے ہمیں عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی امداد درکار ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم اپنے مقاصد میں بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گئے انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ کئی سالوں سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں ری کنسٹرکشن اپرچیونٹی زون قائم کیا جائے گا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی عملی اقدامات دیکھنے کو نظرنہیں آئے انہوں نے کہا کہ ٹوکیو کانفرنس میں بھی اسی طرح عالمی برادری نے امداد کے وعدے کئے لیکن وہ پورے نہ ہوسکے انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں آگے بڑھے گی اور اس مشکل مرحلے میں پاکستان کی بھرپور معاونت کی جائیگی انہوں نے اس سوال پر کہ پاکستان کو کتنی رقم درکار ہے کہ جواب میں کہا کہ میں دو باتیں واضح کردینا چاہتا ہوں ایک یہ کہ عالمی برادری نے ہمیں جو امداد دینے کے وعدے کئے تھے وہ پورے کئے جائیں اور کیری لوگر بل کے ذریعے ملنے والی امداد مذکورہ مقاصد پر ہی خرچ ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر مالیاتی امداد فراہم کی جاتی ہے جو انتہائی ناگزیر بھی ہے تو اس سے ہم اس قابل ہوجائینگے کہ وہاں کے مکینوں کے دل و دماغ جیت سکیں انہوں نے کہا کہ ہم نے وہاں مختلف منصوبہ جات شروع کرنے اور ان میں تعاون کی فراہمی کی بھی نشاندہی کی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو دو بلین ڈالر سے زائد رقم دینی ہے وزیراعظم نے کہا کہ اب تک جو امداد دی گئی وہ آئی ڈی پیزاور انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کی گئی وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کئی اہم رہنمائوں کو بھی حراست میں لیا ہے انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کی سول اور فوجی قیادت ایک نقطے پر متفق ہیں اور نہ صرف سول و فوجی قیادت بلکہ پوری پاکستانی قوم دہشتگردی اور انتہا پسندی کیخلاف حکومت اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے انہوں نے کہا کہ ہم یہ جنگ اس وقت تک نہیں جیت سکتے تھے جب تک عوام کی حمایت حاصل نہ ہوتی اب پاکستانی عوام دہشتگردی کیخلاف ہیں سول سوسائٹی ، سیاسی قیادت ، پارلیمنٹ کے باہر اور اندر اور ہر سطح پر دہشتگردی کیخلاف سوچ پائی جاتی ہے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پہلی حکمت عملی یہ ہے کہ ہم پہلے ان علاقوں میں استحکام لائیں جو دہشتگردوں سے چھینے گئے اس کے بعد دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کیلئے نئی حکمت عملی اپنائی جائیگی تاہم یہ واضح ہے کہ جب تک ان علاقوں میں استحکام نہیں آتا نئے علاقوں میں آپریشن نہیں ہوگا اور نئے علاقوں میں آپریشن کا فیصلہ سیاسی لیڈر شپ اور فوجی کمان مشورے سے کریگی انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ جب دہشتگردوں کے زیر اثر مضبوط علاقوں کا کنٹرول سنبھال لینگے تو وہ محفوظ رہ کر محفوظ پناہ گاہوں کی طرف رجوع کرینگے یہی وجہ ہے کہ دہشتگردوں نے پاکستان کے شہروں کا رخ کرلیا ہے اور وہ شہری علاقوں میں اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں تاہم پہاڑوں پر شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے علاوہ پولیس کو تربیت اور بلٹ پروف جیکٹس گاڑیاں بھی فراہم کی گئیں ہیں انہوں نے کہا کہ یہ نارمل جنگ نہیں ہے بلکہ گوریلا وار ہے تاہم موثر انٹیلی جنس اور دفاعی تعاون کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اب دہشتگردوں نے خوف وہراس پیدا کرنے کیلئے عام لوگوں پر حملے شروع کردیئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود حکومت کے دہشتگردی کیخلاف عزم کو متزلزل نہیں کیا جاسکتا انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ افغانستان میں طالبان کو مذاکرات کے ٹیبل پر لانے میں پاکستان کیا کردار ادا کرسکتا ہے کہ جواب میں کہا کہ صرف پاکستان ایسا ملک ہے جو افغانستان میں استحکام کیلئے حقیقی معنوں میں کردار ادا کرسکتا ہے پاکستان اس لحاظ سے منفرد اہمیت کا حامل ہے اور ہم نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے جن میں سیاسی مفاہمت میں معاونت کی فراہمی اور افغانستان کی تعمیر نو بھی شامل ہے اور ہم نے افغان صدر کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ پاکستان کابل کی معاونت کرنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع ، اقتصادی معاملات اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کرسکیں انہوں نے کہا کہ سوویت جنگ کے بعد عالمی برادری نے افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا اس جنگ میں 3.5ملین افغان پناہ گزین پاکستان میں آئے جو گزشتہ 30سالوں سے یہاں پر ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان ان کی بہتر انداز میں دیکھ بھال کررہا ہے انہوں نے کہا کہ مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری عالمی برادری کے مفاد میں ہے انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں استحکام کے مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے اسی لئے ہم نے افغان قیادت کو سیاسی تربیت اور فوجی صلاحیت میں بہتری لانے کی پیشکش بھی کی ہے انہوں نے کہا کہ نیٹو کی جانب سے افغانستان پالیسی میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ایسے طالبان عناصر جو عسکریت پسندی ترک کرناچاہتے ہیں ان سے مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے تاہم اس سے پہلے یہ کلیئر کرلینا چاہیے کہ اچھے اور برے طالبان کون ہیں اور جب اس کا فیصلہ ہوجائے تو ہم بھی معاونت کرینگے انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے انتخابات میں مداخلت نہیں کی انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان میں اداروں کی تعمیر سمیت دیگر امور میں انتہائی اہم کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی بحران سے تمام ممالک متاثر ہوئے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل تھا تاہم دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے باعث پاکستان کو مالیاتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے تاہم یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا ملک زرعی ملک ہے جس کی وجہ سے ہم نے اس شعبے پر خصوصی توجہ دی اور ہمیں گندم کی بمپر پرائز حاصل ہوئیں انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ ملک میں گندم کا بحران رہا لیکن جب میں نے وزارت عظمیٰ سنبھالی تو اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے گئے جس کے باعث ملک میں اب کوئی بحران نہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو توانائی کے بحران کاسامنا ہے حکومت اس سلسلے میں بھی اہم اقدامات اٹھا رہی ہے وزیراعظم نے ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا انہوں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے جبکہ ہم اپنے دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا دشمن دہشتگردی ہے اور ہماری تمام تر توجہ اس پر ہے انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ جامع اور بامعنی مذاکرات چاہتے ہیں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے شرم الشیخ میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں تمام امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات چیت میں بھارتی وزیراعظم نے یہ کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کو دہشتگردی کے واقعات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیاجائے گا ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اگر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اچھے ہونگے تو اس سے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی وزیراعظم نے پاکستان میں جمہوری عمل کے حوالے سے کہا کہ میرے خیال میں عدلیہ کو شروع میں ہی بحال کردینا چاہیے تھا جس میں تاخیر میری سب سے بڑی غلطی تھی ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف ضائع نہیں کرنا چاہیے ہمیں ملکی عوام کی بہتری کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے پوری قوم کو دہشتگردی کیخلاف ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرلیا ہے جبکہ دوسری بڑی کامیابی آئی ڈی پیز کی ان کے گھروں کو انتہائی مختصر عرصے میں واپسی ہے اور یہ عالمی تاریخ میں ہے کہ ہم نے اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کی انہوں نے کہا کہ اب جمہوریت کے استحکام کیلئے سترھویں ترمیم کے خاتمے پر بھی کام جاری ہے اور جلد قوم اس سلسلے میں بڑی خوشخبری سنے گی انہوں نے کہا کہ ہم اس پوزیشن میں بھی ہیں کہ عالمی امن اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکیں کیونکہ پاکستان سٹرٹیجک حوالے سے انتہائی اہمیت کا ملک ہے اس لئے عالمی برادری کو پاکستان کی معاونت کرنی چاہیے اور یہ خدا کی طرف سے ایک سنہری موقع فراہم کیا گیا ہے کہ عالمی برادری دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی معاونت کرے ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ کے منتخب ارکان سے کہا ہے کہ اپنے اپنے حلقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی فوری ضرورت اور وسائل کی دستیابی کو سامنے رکھتے ہوئے ترجیح مقرر کریں' حکومت مالی مشکلات کے باوجود پسماندہ علاقوں میں منصوبوں کے لئے امداد جاری رکھے گی۔ وہ بدھ کی شام وزیراعظم ہائوس میں اپنے چیمبر میں ارکان پارلیمنٹ کے گروپس سے بات چیت کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ اپنے علاقوں کے نوجوانوں کے لئے صحت مند سرگرمیوں اور تعلیم کے فروغ کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی مواقع پیدا کرنے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ ارکان پارلیمنٹ نے اپنے علاقوں میں جاری منصوبوں پر پیش رفت اور بعض حوالوں سے درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ اور خزانہ کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر بھی ملاقات میں موجود تھیں۔