Daily Ausaf::ذکرِ خدا اور نعتِ مصطفیۖر وح کی غذا ہے، ساجد الرحمن
Updated at: Thursday,18 March 2010
ذکرِ خدا اور نعتِ مصطفیۖر وح کی غذا ہے، ساجد الرحمن
بریڈ فورڈ(پ ر) ممتاز مذہبی سکالر صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمن سجادہ نشین آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ بگھارشریف نے کہا ہے کہ روح کی غذا ذکرِ خدا اور نعتِ مصطفیۖ ہے ،ظاہری جسم بیمار ہو تو ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتے ہیں اور اگر روح میں مرض پیدا ہوجائے توا س کے لئے کسی ولی کامل کی نگاہ درکار ہوتی ہے ۔وہ گزشتہ روز خطہ پوٹھوہار کے ممتاز صوفی بزرگ مولانا محمد یعقوب کے سالانہ عرس مبارک کی تقریب سے یہاں دی وینیوبریڈ فورڈمیں خطاب کررہے تھے ۔تقریب کا اہتمام انجمن محبین مشائخ بگھارشریف کے ارکان راجہ گلستان خان اور راجہ محمد عرفان نقشبندی نے کیا تھا۔ڈاکٹر صاحبزادہ ساجدالرحمن نے کہا کہ روح پاکیزہ ہو،توانا ہو،زندہ ہو تووہ ظاہری جسم کو دنیوی آلائشوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ خلقِ مصطفی ۖ کو کتابوں میں پڑھنے کے ساتھ عمل کے لئے حامل خُلق ِ مصطفی ۖ کا سامنے ہونا ضروری ہے اور صاحب ِعرس حضرت مولانامحمدیعقوب کی پوری زندگی کا خلاصہ سنت مطہرہ کی پاسداری سے عبارت تھا۔انھوں نے کہا کہ صاحب عرس کے اخلاق حسنہ سے متاثر ہوکر کئی ہندو حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔انھوں نے کہا کہ صوفیاء کے درباروں میں انسانی خودی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ دین حاکم و محکوم،بادشاہ ورعایا اور پیرو مرید کے لئے یکساں ہے اور شریعت کے احکامات سب کے لئے برابر ہیں ۔انھوں نے کہا کہ صوفیا کا تعلق تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب سے ہوتا ہے انھیں درہم ودینار سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔مولانا عباس رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدہ کی درستگی پر عمل کا دارومدار ہے ۔انھوں نے کہا کہ ولی اللہ کی بات ہی اور ہے ان سے منسوب گائے کے ذکر کو رب نے سب سے بڑی سورت "سورہ بقرہ"کا عنوان قرار دیا۔انھوںنے کہا کہ اللہ کے ولیوں کے صدقے رب اپنی مخلوق سے بلائیں ٹالتا ہے ۔پیر حبیب الرحمن محبوبی سجادہ نشین آستانہ عالیہ ڈانگری شریف نے کہا کہ حضرت مولانا محمدیعقوب کا مزاج سنت مصطفی ۖ کا آئینہ دار تھا۔انھوں نے کہا کہ حقیقی صوفیاء آپس میں محبت و مودت رکھتے ہیں نفرتیں ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتیں۔نقابت کے فرائض مولانا حافظ امجد محمود امجدنے کی ۔تلاوت کلام پاک قاری یاسر عبدالباسط محمد عبدالصمد اور قاری نجم المصطفیٰ نے کی جبکہ علماء میں مولانا تنویر احمد صدیقی،مولانا واجد حسین ،مولانا نعمت علی چشتی ،صاحبزادہ محمد انوار الحق شامل تھے ۔اس کے علاوہ محمدجاوید چشتی ،قاری سمندر خان ،شیخ محمد فاضل ،عدیل احمد رزاقی ،محمدعرفان راجہ نقشبندی ،عابد چشتی نے بحضور سرور کونین ہدیہ عقیدت پیش کیا۔