Daily Ausaf:: دہشت گردی کا عفریت اور مشترکہ سوچ کا فقدان
Updated at:  Sunday,14 March 2010
دہشت گردی کا عفریت اور مشترکہ سوچ کا فقدان
لاہور میں ایک ہی دن میں 9دھماکے ہوئے جس میں 50افراد شہید اور 130سے زائد زخمی ہوگئے۔ لاہور کے انتہائی حساس علاقے آر اے بازار میں یک بعد دیگرے دو خودکش حملے ہوئے جس میں آٹھ اہلکاروں سمیت پچاس افراد شہید ہوئے جبکہ رات کے وقت اقبال ٹائون میں یکے بعد دیگرے 7 دھماکے ہوئے۔ جس سے عوام میں خوف و ہراس اور پورا شہر لرز اٹھا۔ آر اے بازار جنرل بس سٹینڈ کے قریب پہلا دھماکہ ہوا دوسرا دھماکہ صرف ڈیڑھ منٹ بعد کیا گیا۔ رات 9سے ساڑھے نو بجے کے درمیان اقبال ٹائون میں یکے بعد دیگرے 7 دھماکے ہوئے جس میں 5افراد زخمی اور کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
کراچی میں جید علماء کرام کی شہادتیں اور لاہور میں دھماکوں کی سیریل سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ دشمن تیزی کے ساتھ اپنے ناپاک عزائم مکمل کرنے کے لئے بے تاب ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ ایک ایسا ماحول بنایا جارہاہے کہ جس سے جہاں ایک طرف فرقہ واریت کا عفریت سر اٹھائے تو دوسری طرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرکے نہ صرف معاشی حوالے سے ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا جائے بلکہ دشمنوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو بدنامی کی اس حد تک پہنچایا جائے کہ جہاں سے یہ تاثر ابھرے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار خطرے میں ہیں۔ ایک اور بات بھی اہم ہے کہ جب بھی پاکستان میں بین الاقوامی سطح یا داخلی حوالے سے کوئی تبدیلی رونما ہونے جاتی ہے تو کوئی نہ کوئی پرتشدد واوقعہ رونما کراکر پاکستان کی کامیابیوں کو ناکامیوں میں بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ لاہور کے بم دھماکوں کے پس پردہ ان طاقتوں کا ہاتھ کارفرما ہے جنہیں یہ قبول ہی نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوں' بھارت کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوگئے تو بھارت نے افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جن سازشوں کا جال بچھایا ہے وہ سازشیں ناکامی سے دوچار ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں اس کے مفادات کو بھی زک پہنچے گی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے افغان سرزمین کا استعمال کرکے جس طرح کی سازشوں کا جال بچھایا ہے اور دوستی کے روپ میں افغانستان کا جو نقصان کیا ہے اب اس کے یہ تمام عزائم سامنے آچکے ہیں اور انشاء اللہ بھارت کو ناکامی کا منہ دیکھنا ہوگا۔
دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر نے لاہور کو خصوصی نشانے پہ رکھا ہے 8مارچ کو ہونے والے سانحہ ماڈل ٹائون کی گونج ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ گزشتہ روز ایک بار پھر دہشت گردوں نے لاہور کے انتہائی گنجان اور حساس علاقے کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا کر اپنے ناپاک ارادوں کا اظہار کیا ہے۔ ایک طرف حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں کے بیانات اور دعوے ہیں کہ دہشتگردوں کی کمر توڑی جاچکی ہے اور سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جاچکے ہیں جبکہ دوسری جانب دہشت گرد مسلسل کارروائیوں کے ذریعے جہاں ایک طرف لاشوں کے تحفے دے رہے ہیں وہاں خوف و ہراس پھیلانے میں بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو کب تک ان دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے گا' ملک دشمن عناصر نے نہ صرف لاہور بلکہ صوبہ سرحد کے دارالخلافہ پشاور اور کراچی کو بھی بدامنی کی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ۔دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا جو سلسلہ شروع ہوچکا ہے اس سے نہ صرف عوام میں خوف و ہراس اور مایوسی پھیل چکی ہے بلکہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی اور حکمرانوں کی لاپرواہی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ دشمن تو دشمن ہی ہے اس نے تو ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرنا ہے لیکن حیرت اس بات پہ ہے کہ ہمارے قومی قائدین اور حکمران طبقے کی صفوں میں ابھی تک مشترکہ سوچ کا فقدان ہے۔ جب تک ہمارے سیاسی قائدین مذہبی علماء اور حکمران اس حوالے سے ایک سوچ پیدا نہیں کریں گے یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ دشمن ہماری آپس کی چپقلشوں سے فائدے اٹھا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک کے تمام سیاسی قائدین ' تمام مسالک کے علماء کرام اور حکمران مشترکہ طور پر ایک ایسا لائحہ عمل طے کریں کہ جس سے نہ صرف فرقہ وارانہ فسادات کرانے والے ناکام ہوں بلکہ دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے ملک کو نقصان سے دوچار کرنے والے دشمن بھی ناکام ہوں۔ جب تک دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ قومی سوچ اور لائحہ عمل طے نہیں ہوگا ہم دہشت گردی کے اس عفریت سے نہیں نکل سکتے اور نہ ہی ہماری معیشت سنبھل سکتی ہے۔
دہشت گردی کا جن قابو سے باہر ہو رہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک پوری قوم ایک نہیں ہوگی صرف حکومت دہشت گردی کے اس جن کو بوتل میں بند کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال میں جہاں ایک طرف ملک معاشی ابتری کی طرف جارہا ہے وہاں عوام کا اپنی حکومت پہ اعتماد بھی کم ہوتا جارہا ہے ۔اور یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے صرف ناکے یا فول پروف سیکورٹی کے دعوے کامیاب نہیں ہوسکتے اگر اس وباء سے جان چھڑانی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت تمام علماء کرام' دانشوروں' سیاستدانوں اور ذمہ دار اداروں کو ایک ٹیبل پر بٹھا کر ایک ایسا مضبوط لائحہ عمل طے کرے جس سے جہاں ایک طرف قوم میں اتفاق و اتحاد قائم ہو جائے تو دوسری طرف دہشت گردوں اور ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر ناکام ہو جائیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی میں علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ اور لاہور کے دھماکوں کے بعد اب حکومت کو اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے سنجیدگی سے غور کرنے اور اس عفریت سے بچنے کے لئے تمام ملک کے علمائے کرام ' سیاستدانوں' دانشوروں' صحافیوں اور ذمہ دار افراد کے ساتھ مل کر مضبوط لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا۔
مزید خبریں
Share on Facebook
Mehtab Publications Pvt (Ltd)
Copyright 2010 All rights reserved.