Daily Ausaf:: کراچی میں جید عالم کا قتل اور دیوبندی ' بریلوی تنازعہ
Updated at:  Saturday,13 March 2010
کراچی میں جید عالم کا قتل اور دیوبندی ' بریلوی تنازعہ
کراچی میں شہید کیے جانے والے مفتی سعید جلال پوری کا سب سے مستند حوالہ ختم نبوت تھا اور ان سے اکتساب فیض کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ تحریر کے میدان کے بڑے شہسوار تھے اور ان کی دینی تحریریں بہت ہی متاثر کن ہوا کرتی تھیں۔ مولانا عبد الغفور ندیم کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ زخمی ہوئے اور ان کا ایک بیٹا شہید ہوگیا۔
مولانا یوسف لدھیانوی ' مفتی جمیل خان ' مفتی نظام الدین شامزئی کی شہادت کے بعد مفتی سعید جلالپوری کا قتل اتنا بڑا سانحہ ہے کہ جسے بیان کرنے کے لئے الفاظ ہمارا ساتھ نہیں دے رہے۔ ایک ہی دن میں دو وارداتیں اور دونوں کا نشانہ دیوبند مکتب فکر کے علمائے کرام۔ یہ ایک ایسی الارمنگ صورتحال ہے جس پر حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر جید علمائے کرام اسی طرح قتل ہوتے رہے تو ملک میں مسلکی فساد بھی پھیل سکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حادثات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی کا زندہ ثبوت ہیں اور اس روئیے کو کیا کہا جائے کہ سیاستدانوں کے تحفظ کے لئے تو پورے ملک کی انتظامی مشینری متحرک ہے لیکن علمائے کرام کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ جس پائے کے عالم دین مفتی سعید جلالپوری تھے۔ اگر اسی پائے کا کوئی سیاستدان قتل ہو جاتا تو پورے ملک میں ہلچل مچ جاتی لیکن انتہائی افسوسناک بات ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ اور ہر صوبے کی صوبائی وزارت داخلہ کو سیاستدانوں کی تو فکر ہے لیکن علمائے کرام کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ ایک مخصوص لابی اور گروہ اس وقت ملک میں دیوبندی ' بریلوی فساد برپا کرنے کے درپے ہے اس لئے مفتی منیب الرحمن اور دیگر بریلوی علمائے کرام کو خصوصی سیکورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو گروہ دونوں مسالک کے لوگوں کو بھڑانا چاہتا ہے وہ چوٹی کے بریلوی علمائے کرام کو بھی قتل کرانے کی سازش کرسکتا ہے۔
درحقیقت بریلویوں اور دیوبندیوں کے درمیان نہ تو کوئی بڑا تنازعہ کبھی رہا ہے اور نہ ہے جس کی بنیاد پر مسلکی تصادم ممکن ہو۔ دونوں مسالک کے لوگ فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں اور امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں۔ دیوبندی ' بریلوی علمائے کرام کے پیچھے خوشی سے نماز پڑھتے ہیں اور بریلوی ' دیوبندی علمائے کرام کے پیچھے۔ دونوں مسالک کے لوگوں کا خدا ایک ' رسولۖ ایک ' کلمہ ایک ' نماز ایک ہے۔ دونوں گروہ چاروں خلفائے راشدین کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ دونوں گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں صحابہ کرام کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ دونوں گروہوں کے اتفاق کی اس سے بڑھ کر مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک ہی گھر میں باپ اگر بریلوی مسلک کا ہے تو بیٹا دیوبندی مسلک کا۔ ایک ہی گھرانے کا ایک فرد تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے رائے ونڈ جاتا ہے تو دوسرا فرد ملتان کے قریب سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرتا ہے۔ دونوں گروہوں کے لوگ ٹخنوں سے شلوار اوپر کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ جتنی سنتیں اور فرض بریلوی پڑھتے ہیں۔ اتنی ہی سنتیں اور فرض دیوبندی بھی پڑھتے ہیں۔ دونوں مسالک کے لوگ نیچی آواز میں آمین کہتے ہیں ۔ الغرض ان دونوں مسالک کے لوگوں میں ایسا کوئی اختلاف نہیں جو تصادم کا باعث بن سکتا ہو۔
یقینی طور پر دونوں گروہوں میں تصادم کی راہ ہموار کرنے والے لوگ وہی ہیں جنہوںنے عراق میں شیعہ سنی تفریق سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ ان بیرونی سازشیوں کو جو مقامی آلہ کار ملے ہوئے ہیں وہ یا تو نادان ہیں یا استعمار کے ہاتھوں بک چکے ہیں کیونکہ ہم اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ طور پر کہتے ہیں کہ کوئی بھی سچا مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ایذا پہنچانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کل روز محشر اسے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور رسولۖ اللہ کا سامنا بھی کرنا ہے۔ کون چاہے گا کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہو تو اس کے ہاتھ اپنے مسلمان بھائی کے خون سے لتھڑے ہوں۔ یہ جو صاحبزادہ فضل کریم اور بعض سخت گیر دیوبندی مولویوں کا معاملہ ہے تو اس پر جھاگ اڑانے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں کیونکہ یہ لوگ بریلویوں اور دیوبندیوں کے ہاں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ عالم بولتا ہے تو اس کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ عالم کی گفتگو میں تحمل ہوتا ہے ' بردباری ہوتی ہے ' سلیقہ ہوتا ہے۔
اور جب صاحبزادہ فضل کریم اور دوسری جانب سے حافظ طاہر محمود اشرفی بولتے ہیں تو یوں گمان ہوتا ہے جیسے کسی کوچے میں دو عورتوں کی لڑائی ہورہی ہو۔ وہی ہاتھ نچا نچا کر باتیں کرنے کا انداز ' وہی چیخ و پکار ' الزام تراشی ' طعنہ زنی اور بیکار کی بحث۔
یہ نجلی ٹیلی ویژن چینلوں والے بھی خوب ہیں۔ ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک پائے کا عالم دین موجود ہے اور انہیں مدعو کرنے کے لئے صاحبزادہ فضل کریم اور حافظ طاہر محمود اشرفی ہی ملتے ہیں۔ اصل معاملہ یہ نہیں کہ ان چینلوں کو بلانے کے لئے بڑے علمائے کرام ملتے نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف مزے لینے اور اپنے ناظرین کو تماشہ دکھانے کے لئے یہ لوگ ایسے حضرات کو بلاتے اور بھڑاتے ہیں جن کے مزاجوں میں تحمل اور بردباری نام کو بھی نہیں ہوتی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں مسالک کے جید علمائے کرام کو ایسے لوگوں سے برات کا اعلان کرنا چاہئے اور قوم کے سامنے آکر اسے بتانا چاہئے کہ اس طرح کے لوگ بریلویوں یا دیوبندیوں کے نمائندے نہیں ہیں لہٰذا ان کی لڑانے بھڑانے والی باتوں پر کان نہ دھرے جائیں۔ اس بات کا بھی کھوج لگانے کی ضرورت ہے کہ برائن ڈی ہنٹ سے کون کون ملتا ہے اور ان ملاقاتوں میں کیا کچھ طے پاتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں اس بات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں موجود امریکی سفارت کار کیا گل کھلاتے پھر رہے ہیں وہیں ان لوگوں کی سرگرمیوں کو بھی واچ کرنے کی ضرورت ہے جو امریکی سفارت کاروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
مزید خبریں
Share on Facebook
Mehtab Publications Pvt (Ltd)
Copyright 2010 All rights reserved.