Daily Ausaf:: کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کو بورڈ کی طرف سے سزا
Updated at: Friday,12 March 2010
کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کو بورڈ کی طرف سے سزا
پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ نے دو سابق کپتانوں محمد یوسف اور یونس خان پر تاحیات پابندی جبکہ شعیب ملک اور رانا نوید پر ایک سال تک نہ کھیلنے کی پابندی لگائی ہے۔ شاہد آفریدی کو 30 لاکھ ' کامران اکمل کو 30 لاکھ جبکہ عمر اکمل کو 20 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔
کسی بھی پاکستانی کے لئے یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ جن کھلاڑیوں پر پابندی لگائی گئی یا انہیں جرمانہ کیا گیا وہ انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پی سی بی کے پاس اس کے سوا چارہ ہی کیا تھا کہ وہ ایک بار ٹیم کا شیرازہ بکھیرے اور نئے سرے سے قومی ٹیم کی شیرازہ بندی کرے۔ گروپ بندی کے ذریعے ٹیم کے اندر سیاست 'جوڑ توڑ ' ڈسپلن کی خلاف ورزی ' بلیک میلنگ ' الغرض وہ کون سا ہتھکنڈہ ان کھلاڑیوں نے نہیں آزمایا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں اتنی حیا بھی نہ آئی کہ وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی یہ حرکتیں پوری قوم کے لئے دردسر بن جائیں گی۔
ہمیں آج بھی وہ سنہرے لمحات یاد ہیں جب عمران خان کی سربراہی میں قومی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ جیت کر پوری قوم کا سر فخر سے اونچا کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھی قومی ٹیم بہت اچھا کھیل پیش کرتی رہی۔ جیت جاتی تھی تو قوم خوشی سے نہال ہو جاتی تھی اور ہار جاتی تھی تو قوم کو امید ہوتی تھی کہ ٹیم اگلی بار اچھا کھیل پیش کرے گی۔
حالیہ برسوں میں تو ٹیم کی اخلاقیات کا جنازہ ہی نکل گیا۔ بعض کھلاڑیوں نے ایسا عجیب و غریب کردار پیش کیا کہ کرکٹ سے محبت کرنے والوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ دورہ آسٹریلیا کے دوران ٹیم نے جس طرح لگاتار سارے میچ ہارے ' اس کی وجہ سے پی سی بی پر قوم کا دبائو بڑھ گیا کہ وہ تحقیقات کرے کہ ٹیم کی اس شرمناک کارکردگی کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں جو حیران کن انکشافات ہوئے اس کے بعد پی سی بی پر لازم ہوگیا کہ وہ کھلاڑیوں کے خلاف انضباطی کارروائی کرے اور جب پی سی بی نے یہ کارروائی کر ڈالی تو بعض لوگوں نے پی سی بی کے خلاف تنقید کے دفتر کھول دیئے۔
ہم نہیں جانتے کہ پی سی بی اپنے ان فیصلوں پر کب تک قائم رہتی ہے کیونکہ فیصلے کرنے کے بعد دبائو میں آکر چیئرمین پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ اعجاز بٹ نے محمد یوسف اور یونس خان کے حوالے سے جس طرح پینترا بدلا اس سے یہ نتیجہ قائم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ بعض کھلاڑیوں کی سرپرستی کرنے والی بااثر لابیاں حرکت میں آگئی ہیں اور فیصلوں کو ریورس کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ ان کھلاڑیوں کی سزا بڑی حد تک نرم کر دی جائے گی اور انہیں دوبارہ کھیلنے کا موقع مل جائے گا لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ کھلاڑی جس قسم کے کردار کے عادی ہوگئے ہیں کیا اسے تبدیل کرنے پر تیار ہو جائیں گے؟ جن کھلاڑیوں کو سیاست کرنے ' گروپ بناکر اثر انداز ہونے کی عادت پڑگئی ہے ' کیا یہ لوگ اس عادت کو ترک کرسکیں گے؟
اور اگر ہم ایک لمحے کو فرض کرلیں کہ پی سی بی نئے خون کو ملک کی نمائندگی کا موقع دے گی تو کیا پانچ ' سات نئے کھلاڑی ملک اور قوم کی توقعات پر پورااترسکیں گے ؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر ٹیم میں پانچ ' سات نئے کھلاڑی شامل کئے جاتے ہیں تو انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم جمانے اور ایک مضبو ط شکل اختیار کرنے میں کم از کم دو سال کا عرصہ لگ جائے گا اور دو سال کے اس عرصے میں قوم کو پے درپے بری خبریں ملیں گی۔ کیا قوم دو سال تک زیادہ ہار اور کم جیت کے لئے تیار ہے؟
اور اس بات کی بھی کیا گارنٹی ہے کہ نئے کھلاڑی بھی اس روش پر نہیں چل نکلیں گے جس پر پرانے کھلاڑی چل رہے ہیں۔ کیا پی سی بی کا موجودہ ڈھانچہ اس قابل ہے کہ وہ نئے کھلاڑی کو اس اعتبار سے بھی تیار کرسکے کہ وہ صرف ملک کے لئے سوچیں اور ملک کے لئے کھیلیں۔ وہ خصوصیات جو ماضی کی پاکستانی ٹیموں میں پائی جاتی تھیں کیا نئے کھلاڑی بھی ان خصوصیات کے حامل بن پائیں گے یا نہیں۔ یہ وہ مشکل سوال ہے جس کا جواب سردست کسی کے پاس نہیں ہے۔
اور ایک کرکٹ پر ہی کیا موقوف ہاکی کے کھلاڑیوں نے انڈیا میں کیا گل کھلائے؟ ورلڈ رینکنگ میں پاکستانی ٹیم کا نمبر7 تھا جبکہ جنوبی افریقہ کا 13۔ ساتویں رینک کی ٹیم 13 ویں رینک کی ٹیم سے اس بری طرح ہاری کہ پوری قوم شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ ٹیم کھیل رہی تھی لیکن ٹیم سپرٹ مفقود تھی۔ ہر کھلاڑی یوں بوکھلا یا ہوا تھا جیسے کوئی بلا اس سے چمٹی ہوئی ہے۔ کتنی ہی بار پاکستانی کھلاڑیوں نے 25 گز لائن کرا س کی ' ڈی میں بھی داخل ہوگئے لیکن گول کرنے کی کوشش میں ان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے تھے۔ انڈیا بھی ہارتا رہا لیکن اچھا کھیل پیش کرکے ہارتا رہا۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم کا حال یہ تھا جیسے کسی عذاب میں مبتلا ہو۔
کرکٹ کے بعد ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی نے کروڑوں پاکستانیوں کے دل یوں توڑے کہ ان گنت نے جل کر کہا کہ وہ آئندہ کرکٹ اور ہاکی کے میچ ہی نہیں دیکھا کریں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہاکی ٹیم کا محاسبہ بھی اسی طرح ہونا چاہیے جس طرح کرکٹ ٹیم کا ہوا۔
بعض سیانے لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشرتی فضا کھیل پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ نام نہاد لیڈروں کے ہاتھوں پوری قوم مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرچکی ہے۔ ہر جانب ایک افراتفری کا ماحول ہے۔ حکمرانوں کی کارکردگی بھی ویسی ہے جیسی کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں نے حالیہ دنوں میں پیش کی۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ امن وامان کو یقینی بنائے۔ لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنائے۔ انہیں جان و مال کا تحفظ دے اور سب سے بڑھ کر انہیں معاشی خوشحالی سے ہمکنار کرے۔ ان تمام معاملات میں حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جتنے بھی شعبوں میں ناکامیاں قوم کا مقدر بن رہی ہیں ان تمام شعبوں کے سربراہوں کا محاسبہ کیا جائے۔ اس رائے میں بڑا وزن ہے کہ اگر ملک کا نظام ٹھیک ہو جائے۔ حکمران اور سیاستدان اپنا قبلہ درست کرلیں۔ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔ قوم کا اعتماد بحال ہو تو کھیلوں کے میدان میں بھی ہماری کارکردگی بہتر ہو جائے گی