Daily Ausaf:: سترہ کروڑ عوام درندوں کے رحم و کرم پر
Updated at:  Wednesday,10 March 2010
سترہ کروڑ عوام درندوں کے رحم و کرم پر
لاہور خودکش دھماکہ ہو یا تھانوں میں عوام پر پولیس کا بہیمانہ تشدد ‘ اربوں روپے کی کرپشن ہو یا حکمرانوں کا عوام کش انداز حکمرانی گلیوں اور سڑکوں کے بیچ کھلے ہوئے مین ہول ہوں یا ناقص وائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی شارٹ سرکٹنگ ‘ قبضہ مافیا ہو یا لوگوں کے گلے کاٹنے والی دھاتی ڈور تیار کرنے والے بے رحم لوگ ‘ یہ سب کے سب عوام کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔
لاہور میں خودکش حملہ کرنے والے بے رحم لوگوں نے جو دہشت گردی کی ‘ ا س کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے۔ ملک کے سیکورٹی ادارے چونکہ ان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں اس لئے انتقام لینے کے لئے انہیں جب بھی وار کرنے کا موقع ملتا ہے ‘ کر گزرتے ہیں۔ انہیں آپ دہشت گرد کہیں ‘د رندے کہیں ‘ ظالم کہیں یا کوئی بلا لیکن جو ادارے حکومت خود چلاتی ہے۔ ان میں کام کرنے والے لوگوں کو تنخواہ دیتی ہے‘ مراعات دیتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن دیتی ہے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے جائیں تو معاوضے کے طور پر لاکھوں روپے ‘ میڈل اور بیوہ کو پلا ٹ دیتی ہے اس کے بدلے میں وہ قوم کو کیا دے رہے ہیں؟ چھترول ‘ تھرڈ ڈگری کے وہ 27 حربے جو بھارتی فوج کشمیری مجاہدین پر استعمال کرتی ہے؟
اور ان جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاستدانوں نے عوام کو کیا دیا؟ اربوں روپے کی کرپشن ‘ قومی وسائل کی بندر بانٹ ‘ اقربا پروری اور قیامت خیز مہنگائی ؟ ان سب کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ فلاں کو استثناءحاصل ہے لہٰذا تحقیقات کا باب بند ہی رہنے دو ‘ کوئی یہ وضاحت کرنے کے لئے تیار نہیں کہ یہ اربوں روپے آئے کہاں سے ‘ حتیٰ کہ وہ بھی نہیں جو ان اثاثوں کے مالک ہیں۔ قوم لائنوں میں کھڑی ہوکر انہیں ووٹ دیتی ہے اور یہ حکومت بناکر لوگوں کو ایک کلو چینی کے لئے قطاروں میں کھڑا کر دیتے ہیں۔
قوم ان کو چھوٹی چھوٹی کوٹھیوں اور بنگلوں سے عالی شان محلات تک پہنچا دیتی ہے یہ قوم کو تین مرلے کے گھر سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ قوم ان کو کروڑوں روپے کی بلٹ پروف شاندار لگژری گاڑیوں میں بیٹھنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور یہ چھوٹی چھوٹی گاڑیوں والوں کو سی این جی جیسی حقیر شے سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ قوم ان کو روشنیوں میں نہلا دیتی ہے اور یہ قوم کو دو بلبوں جتنی روشنی سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ اس قوم کی بدولت ان کے بچے آکسفورڈ اور کیمرج میں پڑھتے ہیں جبکہ ان کی مہربانیوں سے اس قوم کے اکثریتی بچے آج بھی بوسیدہ ٹاٹوں پر بیٹھ کر ”علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب“ کا ورد کر رہے ہیں۔ یعنی احسان فراموشی کی ایسی حد کر دیتے ہیں جن کی نظیر ڈھونڈنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اور یہ جو شہری انتظامیہ کہلاتی ہے ‘ اس کی بے رحمی دیکھئے کہ آباد سڑکوں اور آباد گلیوں کے بیچوں بیچ مین ہول کھول رکھے ہیں جو کسی درندے کی طرح منہ کھول کر قوم کے بچوں کے منتظر ہوتے ہیں۔نہ جانے کتنی ماﺅں کے لعل ان کھلے مین ہولوں کی نذر ہوچکے ہیں لیکن کیا مجال کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا ہو۔
اور یہ شارٹ سرکٹنگ؟ کون نہیں جانتا کہ یہ کیوں ہوتی ہے لیکن جب قوم کے بیٹے اور بیٹیاں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں تو کتنی معصومیت سے اور انجان بن کر کہا جاتا ہے کہ سرکٹ شارٹ ہونے کی وجوہات معلوم کی جارہی ہیں۔ بھئی سیدھی سی بات ہے ناقص تعمیرات کے ساتھ وائرنگ بھی ناقص ہوتی ہے۔ کبھی پورا پلازہ بیٹھ جاتا ہے اور کبھی ناقص وائرنگ اپنا کام دکھا کر پوری قوم کو اپنے نقص سے آگاہ کر دیتی ہے۔ پلازے بنا دیئے جاتے ہیں ‘ اونچی اونچی عمارات بنا دی جاتی ہیں لیکن یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی کہ اس عمارت کو کبھی آگ بھی لگ سکتی ہے اور لوگوں کو جان بچانے کے لئے بھاگنا بھی پڑسکتا ہے۔ گکھڑ پلازہ کی مثال سامنے ہے۔ آج اس آباد پلازے کا تصور ذہن میں لائیں تو خیال آتا ہے کہ ڈیزائن کرنے والے نے صرف اس پہلو کو سامنے رکھا تھا کہ اس میں زیادہ سے زیادہ دکانداروں کو گھسانا ہے اور زیادہ سے زیادہ کرایہ حاصل کرنا ہے۔
راولپنڈی کے گرلز ہاسٹل میں چھ بچیاں جل کر اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ روگ لگا تو ان کو جن کی بیٹیاں یا بہنیں تھیں اور کسی کا کیا گیا؟ شائد اگلے روز کے اخبار میں اس حوالے سے سنگل کالم خبر بھی مشکل سے چھپے۔
پورا ملک طرح طرح کے مافیاز کی زد میں ہے۔ آٹا مافیا ‘ شوگر مافیا ‘ اور قبضہ مافیا کے لوگ شاندار لگژری گاڑیوں میں مزے سے گھوم رہے ہیں۔ کیا مجال کہ کوئی انہیں ہاتھ بھی لگاسکے۔ پورے ملک میں لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضے ہوئے۔ ان پر تعمیرات بھی ہوگئیں لیکن یہ عام پاکستانیوں کی زمینیں تھیں اس لئے کسی کے کانوں پر جون تک نہ رینگی۔ یہی قبضہ مافیا کسی ریٹائرڈ جرنیل ‘ کسی سیاستدان کی زمین کی طرف نظر اٹھا کر تو دیکھے؟
اب ذرا قوم کے گلے کاٹنے والی دھاتی ڈور بنانے والوں کی بے شرمی دیکھئے کہ پنجاب کے لوگوں کو ایک زبردست تفریح سے محروم کر دیا گیا۔ گویا قوم کے گلے کاٹنا بھی ایک تفریح ہوگیا؟
گورنر پنجاب کا دل اس بات پر تو نہیں کڑھتا کہ کروڑوں پاکستانی دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کر دیئے گئے لیکن اس بات کا انہیں کس قدر قلق ہے کہ پنجاب کے لوگوں کو پتنگ اڑانے سے محروم کر دیا گیا۔ کیسے کیسے حکمران اس ملک کا مقدر کر دیئے گئے جو اس قوم کی بدولت اونچے اونچے مناصب پر بھی پہنچتے ہیں اور اسی قوم کے گلے کاٹنے کا لائسنس بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اس ملک کے عوام کتنے بدقسمت ہیں کہ 63 سال بعد بھی ان حقوق سے محروم ہیں جو ریاست پر واجب ہوتے ہیں۔ پاکستان کے ہر شہری پر واجب ہے کہ وہ بروقت اپنا ٹیکس ادا کرے۔ بجلی کا بل ایک ماہ ادا نہ ہو پائے تو اگلے روز واپڈا اہلکار کنکشن کاٹنے پہنچ جاتے ہیں۔ حقوق و فرائض میں اس قدر عدم توازن ہے کہ لوگ اپنے بال نوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان حالات میں اس صورتحال پر اور کیا تبصرہ کیا جائے کہ پورا پاکستانی سماج درندوں کے رحم و کرم پر ہے جو لوگوں کی چیر پھاڑ میں مصروف ہیں اور ملک کا کوئی ایک ادارہ بھی اس چیر پھاڑ کو روک نہیں پارہا۔
مزید خبریں
Share on Facebook
Mehtab Publications Pvt (Ltd)
Copyright 2010 All rights reserved.