Daily Ausaf::تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد ہوگا،اعجاز بٹ
Updated at: Wednesday,10 March 2010
تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد ہوگا،اعجاز بٹ
اسلام آباد(اوصاف سپورٹس)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں جن کھلاڑیوں کیخلاف پابندی اور جرمانے کی سفارشات کی گئیں ہیں ان کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ میرا وعدہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں جن جن کھلاڑیوں کیخلاف ایکشن کی سفارش کی گئی ہے ان میں سے کوئی بھی بچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا، یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ آسڑیلیا کے دوران ناقص کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کی شرمناک شکست کی وجوہات جاننے کیلئے وسیم باری کی سربراہی میں ایک چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے کچھ دن قبل تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی سفارشات کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کے حوالے کردی ہیں، سفارشات میں کچھ کھلاڑیوں پر بھاری جرمانے جبکہ کچھ پر ایک ایک سال کی پابندی کی سفارش بھی کی گئی ہے، سفارشات کے مطابق شعیب ملک اور رانا نوید الحسن پر ایک ایک سال کی پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ آل رائونڈر شاہد خان آفریدی، کامران اکمل اور عمر اکمل پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رپورٹ میں کچھ کھلاڑیوں پر جرمانے اور پابندی کی سفارش کی گئی ہے تاہم انہوں نے کسی بھی کھلاڑی کا نام نہیں لیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بورڈ اس وقت ان سفارشات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر مکمل طور پر عملدرآمد کیاجائے گا، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر پیر کے روز بورڈ کے سینئر عہدیداران اور سلیکشن کمیٹی کے ارکان نے بھی غور کیا اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ممکن ہے کہ سفارشات پر عملدرآمد کی صورت میں ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کیلئے حتمی پندرہ رکنی ٹیم میں کچھ سینئر کھلاڑی جگہ نہ بنا سکیں، بورڈ کے ذرائع کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ سابق کپتان شعیب ملک اور رانا نوید الحسن پر دورہ آسڑیلیا کے دوران کپتان کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر ایک ایک سال کی پابندی عائد کردی جائے، چیئرمین اعجاز بٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی جو رپورٹ ہمیں ملی ہے اس کے کچھ مندرجات میڈیا تک پہنچ گئے ہیں تاہم میں کسی بھی کھلاڑی کے نام کی تصدیق نہیں کرسکتا ہاں جن کھلاڑیوں کیخلاف سفارشات کی گئی ہیں ان کیخلاف ایکشن ہوگا مگر رپورٹ کو میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا، انہوںنے کہاکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہے اس کو ٹیم کے کپتان، منیجر، کوچ اور کھلاڑیوںکی آراء سننے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے ہر کھلاڑی کو موقع دیا ہے کہ وہ دورہ آسڑیلیا کے دوران ٹیم کی ناقص کارکردگی کی وجوہات بیان کرے اور ان تمام آفیشلز اور کھلاڑیوں کے بیانات سننے کے بعد رپورٹ کو مجھ تک پہنچایا گیا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیر کے روز ہونے والے اجلاس جس میں اس رپورٹ کا جائزہ لیا گیا میں بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی بھی شامل تھے بورڈ کے عہدیداران نے رپورٹ پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے قانونی پیچیدگیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔بورڈ کے ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کی وجہ سے اور اس میں پیش ہونے والی سفارشات کی وجہ سے ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کیلئے پندرہ رکنی ٹیم کا اعلان موخر کیا گیا ہے۔