عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان نے پانی کی تقسیم کا مسئلہ مناسب وقت پر نہیں اٹھایا۔ عالمی بینک کے غیر جانبدار ماہرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو 100 ملین کیوبک فٹ پانی مل رہا ہے۔ پاکستان کو سالانہ 145 ملین کیوبک فٹ پانی مل رہا تھا لیکن وولر بیراج اور بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے پاکستان آنے والا پانی 100 ملین کیوبک فٹ رہ گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے پاکستان کا 34 سے 40 ملین کیوبک فٹ پانی روک رکھا ہے جس کی وجہ سے زراعت اور دیگر شعبوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گرگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھار ت نے 2002 ء میں پاکستان کو بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے آگاہ کر دیا تھا لیکن پاکستان نے تین سال بعد ردعمل ظاہر کیا اور 2005 ء میں پانی کے مسئلے پر عالمی بینک سے رجوع کیا۔
اس رپورٹ سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ماضی کی آمرانہ حکومت نے بگلیہار ڈیم کی تعمیر کو نہ صرف نظر انداز کر دیا بلکہ پورے تین برس تک اس مسئلے کو کسی عالمی فورم پر اٹھانا مناسب ہی نہیں سمجھا۔ بھارت نے پاکستان کی اس خاموشی سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مسلسل ایسے منصوبے ترتیب دئے کہ جس سے پاکستان کی زمینوں کو بنجر کر دیا جائے لیکن اب بھی نظر یہ آرہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے اگر بھارت کی آبی جارحیت کو اسی طرح نظر انداز کیا گیا تو مستقبل میں جو تباہی نظر آرہی ہے اس کا تصور کرکے ہی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
بھارت مسلسل پاکستانی کی طرف آنے والے دریائوں پر آبی منصوبوں کی تعمیر میں مصروف ہے اور ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اس حوالے سے خاموشی سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔ بھارت نہ صرف آبی جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے بلکہ ہر محاذ پر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران اور سیاستد ان اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طا ق رکھتے ہوئے بھارت کی اس آبی جارحیت اور دوسری سازشوں کو روکنے کیلئے ایک ہو جائیں اور عالمی سطح پر بھارت کی اس جارحیت کو منظر عام پر لاکر پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔