Daily Ausaf:: مخالفین نے شکست کے خوف سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی ، شیخ رشید
Updated at: Tuesday,09 February 2010
مخالفین نے شکست کے خوف سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی ، شیخ رشید
اسلام آباد، راولپنڈی (وقائع نگار، جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے میرے جو ساتھی شہید ہوئے ہیں وہ میرے محافظ نہیں دوست تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری پنجاب پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب پر ہے جن کو بار بار سکیورٹی بارے آگاہ کیا کسی نے ذمہ داری تک لینے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ میں خیریت سے ہوں مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ فائرنگ کے دوران میں نے گاڑی سے نکل کر انتخابی دفتر میں گھس کر اپنی جان بچائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی رات اوصاف سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں پیر کی شام کو خیابان سرسید میں اپنے انتخابی دفتر سے گاڑی میں نکل رہا تھا کہ اچانک دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے آگے سے آکر ہماری گاڑی پر فائر کھول دیا۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ میرے ساتھی اور دوست انوار الحق، جاوید اور شہزاد اس کی زد میں آگئے اور وہ محمدی چوک جائے وقوعہ پر ہی شدید فائرنگ سے شہید ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس واقعہ کا ذمہ دار پنجاب کی حکومت اور چیف سیکرٹری پنجاب کو قرار دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بار بار پنجاب پولیس اور چیف سیکرٹری کو درخواستیں دیں مگر مجھے سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھوں میں عقیدت اور احترام کے جو پھول ہیں وہ میں سارے اپنے شہید ہونے والے ساتھی دوستوں پر نچھاور کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ شہید ہونے والے ساتھیوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دوں گا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ حملے میں بعض دستانے پہنے ہوئے ہاتھ بھی شامل ہیں بعض لوگ نہیں چاہتے کہ شیخ رشید احمد الیکشن میں جائے اور انہوں نے ہی میرے اوپر حملہ کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے خون سے بھی قلم اور دوات پر مہر لگانی پڑی تو اس سے بھی گریز نہیں کروں گا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ سی پی او راولپنڈی تو مسلم لیگ ن کے ٹاؤٹ کا کردار ادا کررہا ہے وہ مجھے کیا سکیورٹی فراہم کرے گا۔ میں نے تو الیکشن کمیشن اور سی پی او کو بھی الگ الگ سکیورٹی کے لیے آگاہ کیا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پولیس کی جانبداری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پولیس جائے وقوعہ پر ساڑھے چار گھنٹے بعد آئی ہے اگر وہ پیدل بھی آتی تو پندرہ منٹ میں پہنچ سکتی تھی۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس مقدمے کا مدعی میں خود ہوں۔ جو عناصر مجھے الیکشن سے دور رکھنا چاہتے ہیں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ راولپنڈی کے عوام میرے ساتھ ہیں اور کامیابی راولپنڈی کے غیور عوام کی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ حلقہ 55 کے انتخابات فوج، ایف سی یا رینجرز کی نگرانی میں کرائے جائیں۔ پنجاب ہاؤس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اپنی شکست نظر آرہی ہے۔ خدا نے میری جان بچائی ہے مجھے ختم کرنے والوں کو اپنی شکست قبول نہیں ہے۔ دریں اثناء ہسپتال کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ راولپنڈی کی نمائندگی کیلئے آخری دم تک لڑتا رہوں گا۔ پولیس حکام کو دو بار سکیورٹی کے لیے کہا وہ سکیورٹی کے حوالے سے مجھ پر ہنستے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کو اپنی یقینی شکست نظر آرہی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی حملے میں میرے بچپن کے ساتھ مارے گئے جو میرے ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے اپنے الیکشن آفس میں جاکر جان بچائی۔ یہ لوگ سنیں کہ ہم راولپنڈی کو یتیم، بے بس اور لاوارث نہیں رہنے دیں گے۔ مانسہرہ کے بعد راولپنڈی میں انہیں شکست قبول نہیں ہے اس لیے مجھے ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ نے مجھے فون کیا انہیں بتایا کہ قاتلوں کو نہ پکڑا گیا تو جمہوریت کہاں کی ہے؟ میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ قاتلوں کو نہ پکڑا گیا جو جمہوریت کے دشمن ہیں ، حکومت کہاں ہے؟ ان کی شکست ان کا مقدر ہے۔دریں اثناء شیخ رشید نے رات گئے لال حویلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا مخالفین کی الیکشن مہم ناکام ہوئی ہے لوگ مہنگائی اور حالات سے تنگ ہیں ان لوگوں کو واضح شکست نظر آئی جس کے بعد انہوں نے مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا قلم دوات ایک مضبوط انتخابی نشان کے طور پر آرہی ہے ان لوگوں کی فرینڈلی اپوزیشن ٹوپی ڈرامہ ہے جس تھانے کی حدود میں مجھ پر حملہ ہوا یہ منصوبہ بندی طریقے سے کیا یہ لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ میںعوام کے پاس جاؤں قلم دوات کی ایک بڑی لیڈ کے ساتھ فتح ہے ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا اگر مر جاؤں تو کوئی بات نہیں لوگوں کو کیوں کہ میری قبر پر آکر مہر لگا دیں اگر بے نظیر مر گئی تو میں بھی مروں تو کوئی بات نہیں مخالفین مجھے ختم کر کے الیکشن ملتوی کرانا چاہتے ہیں سی پی او چوہدری نثار کا مالشی، ہمارے پیچھے سپیشل برانچ کی گاڑیاں لگائی گئی ہیں جس دن رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال سچ بولیں گے وہ ان کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو ٹیلی فون کئے ہیں اور ان سے خیریت دریافت کرنے کے علاوہ حملہ آوروں کی گرفتاری کا یقین دلایا ہے جبکہ قائد ن لیگ نواز شریف نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو ٹیلی فون کرکے ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شیخ رشید کو ٹیلیفون کرکے ان کی خیریت دریافت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے شیخ رشید سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات کرانے اور قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ قاتلانہ حملے میں شیخ رشید محفوظ رہے۔ انہوں نے شیخ رشید کو یقین دلایا کہ حکومت اس واقعے کی انتہائی ٹرانسپیرنٹ طریقے سے تحقیقات کروائے گی اور ملزموں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ایسے عناصر کی کارروائی ہے جو معاشرے میں بدامنی پھیلا کر حکومت کی ان کوششوں کو ناکام کرنا چاہتے ہیں جو وہ امن عامہ کے استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتظامیہ اور پولیس کو مجرموں کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے اور مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے شیخ رشید کے دفتر پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان میں امن کے دشمنوں کی کارروائی قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ انہیں اس واقعے میں انسانی جانوں کے نقصان پر دلی صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شیخ رشید کی صحت اور سلامتی کے لیے دعا گو ہوں۔ دریں اثناء حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی رہائش پر حکومت کی طرف سے مکمل حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ شیخ رشید کو رہائش گاہ پر سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ سٹی پولیس کی طرف سے ان کی الیکشن کی سرگرمیوں کے دوران تمام ضروری سکیورٹی کا بندوبست بھی کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں شیخ رشید کو سٹی پولیس آفیسر راؤ محمد اقبال کی طرف سے ایک باقاعدہ خط ارسال کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابی مہم کے سلسلے میں الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواران کی ناشتہ میٹنگ، کارنر میٹنگز اور دوسرے پروگراموں کی اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے موثر سکیورٹی انتظامات میں دشواری پیش آرہی ہے جس کی وجہ سے کسی ناخوشگوار واقعے کے ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ خط میں شیخ رشید سے درخواست کی گئی تھی وہ اپنے سیکرٹری کو ہدایت کریں کہ وہ ایک دن قبل ان کے پروگراموں کے بارے میں تحریری طور پر راولپنڈی پولیس کو اطلاع دیں تاکہ سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جاسکے۔ حکومت پنجاب نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے دفتر پر فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے سکیورٹی اور امن عامہ سے متعلق مختلف قومی اداروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انوسٹی گیشن ٹیم پنجاب پولیس، آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔ دریں اثناء صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور زخمیوں کو قواعد کے مطابق مالی معاونت دی جائے گی۔ واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کے لیے سرکاری طور پر علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کے ہدایات پہلے ہی جاری کی جاچکی ہیں۔