Daily Ausaf:: شیخ رشید پر قاتلانہ حملہ،2محافظوں سمیت3جاں بحق
Updated at: Tuesday,09 February 2010
شیخ رشید پر قاتلانہ حملہ،2محافظوں سمیت3جاں بحق
راولپنڈی(جنرل رپورٹر) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد پر ڈھوک دلال میں واقع ان کے الیکشن آفس کے باہر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے آتشیں اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کر دی فائرنگ کے نتیجے میں شیخ رشید احمد کے دوباڈی گارڈوں سمیت تین افراد ہلاک جبکہ سابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور ان کے دو ساتھی معمولی زخمی ہو ئے۔ہلاک ہو نیو الے دونوں باڈی گارڈ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کے دیرینہ ساتھی تھے۔ شیخ رشید احمد حملے کے وقت اپنے آفس سے باہر آکر گاڑی میں سوار ہو رہے تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار نقاب پوش حملہ آوروں نے ان پر خود کار اسلحے سے فائرنگ کر دی حملہ آور موقع سے فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے جاں بحق ہو نیو الوں میں شیخ رشید احمد کا قریبی ساتھی حاجی انوار عرف انواری بھی شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چھ بجے کے قریب سابق وفاقی وزیر و قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55 کے ضمنی انتخاب کے امیدوار شیخ رشید احمد ، خیابان سرسید سیکٹر فور میں واقع اپنے الیکشن آفس سے باہر آرہے تھے جب وہ اپنی گاڑی کے قریب پہنچے تو ایک نقاب پوش شخص نے کلاشنکوف سے ان پر فائرنگ کر دی۔ شیخ رشید گاڑی کے بائیں جانب تھے جبکہ حملہ آور دائیں جانب سے اندھا دھند فائرنگ کررہا تھا اس دوران گاڑی کے قریب موجود ایک سپورٹر ارشاد عرف شادا فائرنگ کی زد میں آگیا جبکہ سابق وفاقی وزیر کی گاڑی کے آگے دوسری گاڑی میں موجودحاجی انوار عرف انواری گاڑی سے اتر کر حملہ آور کو قابو کرنے کے لئے بھاگا تو موٹر سائیکل پر موجود دوسرے حملہ آور نے بھی فائرنگ شروع کر دی جس سے حاجی انواری گولیاں لگنے سے موقع پر ہی گر گئے اور حملہ آور فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے ۔ وفاقی وزیر شیخ رشید بھگدڑ مچنے اور گاڑیوں کے شیشے لگنے سے زخمی ہو گئے جنہیںموقع پر موجود ان کے سپورٹر واپس الیکشن آفس میں لے گئے جہاں سے انہیں دوبارہ ریسکیو1122 کی گاڑی میں ڈسٹرکٹ ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا جبکہ ان کے قریبی ساتھی حاجی انواری کی نعش تقریباً تیس منٹ تک الیکشن آفس کے باہر سڑک پر پڑی رہی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو نیو الوں میں حاجی انوار عرف انواری کے علاوہ ارشاد عرف شادا اور چالیس سالہ محمد جاوید ولد محمد صدیق شامل ہیں ۔ جبکہ زخمیوں میں الیاس عباسی اور 32سالہ محمد حسن ڈسٹرکٹ ہسپتال راولپنڈی منتقل کئے گئے ہیں واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی سٹی پولیس آفیسر رائو محمد اقبال سمیت دیگر سینئر پولیس افسروں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال راولپنڈی میں سابق وفاقی وزیر قانون پنجاب راجہ محمد بشارت ، راشد حفیظ ، عامر فدا پراچہ اور دیگر سیاسی رہنماء و کارکن پہنچ گئے جنہوںنے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ترجمان لال حویلی کے مطابق شیخ رشید احمد حملے کے وقت الیکشن آفس میں موجود تھے اور ان کے پاؤں پر زخم آئے ہیں فائرنگ سے دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا رات گئے شیخ رشید احمد کو ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا علاوہ ازیں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پر حملہ کی تھانہ پیرودہائی میں ایف آئی آر درج کر لی گئی جس میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں صدر اور وزیراعظم نے شیخ رشید پر حملے کی مذمت کی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ مرکزی الیکشن آفس میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد شیخ رشید احمد کے حامیوں نے خیابان سرسید ، لال حویلی، چاندنی چوک اور سول ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے، ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دی اور ن لیگ اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد پر مرکزی الیکشن آفس خیابان سرسید پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد شیخ رشید کے حامی خیابان سرسید ، لال حویلی، ، چاندنی چوک اور سول ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے مسلم لیگ ن اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ شیخ رشید احمد پر فائرنگ اور بے گناہ کارکنوں کے قاتلوں کو جلد از جلد گر فتار کرکے اصل حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اس موقع پر کارکنوںنے خیابان سرسید اور چاندنی چوک میں ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دی اور بعدازاں کارکنان پرامن منتشر ہو کر سول ہسپتال پہنچ گئے جبکہ شیخ رشید سے ملاقات نہ کروانے پر عوامی مسلم لیگ کے کارکنوں نے ہسپتال کے شیشے توڑ دیئے۔