Daily Ausaf:: سیاسی کارکن کا قتل اور دم توڑتی سیاسی اخلاقیات
Updated at: Tuesday,09 February 2010
سیاسی کارکن کا قتل اور دم توڑتی سیاسی اخلاقیات
ویلی5 کے الیکشن میں مسلم کانفرنس کا امیدوار بھاری اکثریت سے جیت گیا تاہم اسے پرامن نہ رکھا جاسکا اور شدید نوعیت کی ہنگامہ آرائی پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کے قتل پر منتج ہوئی۔ مقتول کیپٹن (ر) طارق پیپلز پارٹی کا کارکن تھا۔ اسلام آباد کے جی سکس پولنگ سٹیشن پر تصادم ہوا تو ایک شخص نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کا نشانہ بننے والے کیپٹن (ر) طارق موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تاہم اس قتل کا ایک اندوہناک پہلو یہ بھی ہے کہ مقتول کی لاش بہت دیر تک سڑک پر پڑی رہی اور پیپلز پارٹی کے کارکن ارد گرد کھڑے ہوکر نعرے بازی کرتے رہے۔
درحقیقت ہماری سیاسی اخلاقیات کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ سیاست میں تشدد اور گھٹیا پن نے اس قدر جگہ بنالی ہے کہ شرفا نے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے اور الیکشنوںکے مجموعی ٹرن آئوٹ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ووٹروں کی اکثریت اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے پولنگ سٹیشن تک جانا ہی پسند نہیں کرتی اس کے باوجود جیتنے والے امیدوار دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔
لڑائی مار کٹائی کرنے والے اور تشدد پسند عناصر اتنی بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنوں پر کیوں جمع ہوتے ہیں اس سوال کا الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہیے۔ اسلحہ بردار لوگوں کو پولنگ سٹیشنوں پر جمع ہونے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے اس سوال کا جواب پولیس کو دینا چاہیے لیکن کیا ان سوالوں کا جواب مانگنے سے پہلے ایک نظر اس امر پر نہ ڈال لی جائے کہ ہمارے انتخابی نظام میں الیکشن کمیشن اور پولیس کی حیثیت کیا ہے؟
پوری قوم جانتی ہے کہ الیکشن کمیشن ہر امیدوار کے لئے الیکشن مہم کے دوران یہ پابندی لگاتا ہے کہ وہ ایک محدود رقم سے زیادہ پیسہ خرچ نہیں کرسکے گا۔ لیکن ہوتا کیا ہے ؟ پانچ لاکھ کے بجائے بعض امیدوار کروڑوں روپے خرچ کرڈالتے ہیں اور الیکشن کمیشن منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔
امیدواروں پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن نے بینروں اور ہورڈنگز کی جو حد مقرر کی ہے اس سے تجاوز نہ کیا جائے۔ لگ بھگ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار اس پابندی کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتے ہیں اور الیکشن کمیشن کچھ نہیں کرسکتا۔ الیکشن کمیشن امیدواروں کو جو گوشوارے جاری کرتا ہے ان میں بھی غلط اندراج کیا جاتا ہے لیکن الیکشن کمیشن بے بس ہوتا ہے۔
ہر ا نتخاب کے وقت تمام سیاسی جماعتوں کے لئے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا جاتاہے لیکن آج تک کسی بھی الیکشن میں اس ضابطہ اخلاق کی پابندی نہیں کی گئی۔ ان تمام باتوں کے باوجود نہ تو کبھی پاکستان کا کوئی چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوا اور نہ کبھی اس نے الیکشن کرانے سے انکار کیا کہ چونکہ ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اس لئے وہ الیکشن کرانے سے قاصر ہیں۔
جہاں تک پولیس کا تعلق ہے تو وہ پاکستان کی ہو یا آزاد کشمیر کی اس کی مجال نہیں کہ وہ طاقتور سیاسی لوگوں کے سامنے دم بھی مار سکے۔ سیاستدانوں کے سامنے پولیس کی تابعداری اور فرمانبرداری کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ پولیس کا آئینی فرض ہو۔ یہ وہ پولیس ہے جسے اگر مزدوروں کے جلوس کو منتشر کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے تو یہ ان پر چیتے کی طرح جھپٹتی ہے اور لمحوں میں جلوس کو منتشر کرکے رکھ دیتی ہے لیکن سیاسی لوگوں کا اکٹھ ہو تو اسے چھیڑنے سے گریز کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طاقتور سیاسی لوگوں کو پولیس افسروں کی کوئی حرکت ناگوار گزرے تو یہ دور دراز مقامات پر ان کا تبادلہ کرا دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان اور آزاد کشمیر کا سیاسی کلچر انتہائی شرمناک ہے۔ الیکشن کو زندگی موت کا مسئلہ بنالیا جاتاہے۔
ایک ہی علاقے ' خاندان اور برادری کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ برداشت اور رواداری کا عنصر مفقود ہو جاتا ہے اور پتھر کے دور کے جاہلانہ رویوں کا اظہار ہوتا ہے۔ ویلی 5 کے معاملے کو ہی لیجئے۔ کیا فائدہ ایسے الیکشن کا جو ایک جواں سال آدمی کی جان لے گیا۔ اس کا تعلق جس بھی جماعت سے تھا لیکن وہ ایک جیتا جاگتا انسان تھا اور جی سکس کے پولنگ سٹیشن پر بہرحال مرنے نہیں گیا تھا۔
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر کا کہنا ہے کہ اگر نامزد ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو لانگ مارچ کریں گے۔ نامزد ملزمان میں آزاد کشمیر کے وزراء مرتضیٰ گیلانی اور راجہ نصیر ہیں جبکہ الیکشن جیتنے والے امیدوار احمد رضا قادری کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنی شکست کو سامنے دیکھ کر ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جی سکس کے پولنگ سٹیشن پر ہنگامہ آرائی بارے حکام کو قبل از وقت خبردار کر دیا گیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اندوہناک واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری ہونی چاہئے اور حکومت کو اس انکوائری پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ بعض مسلم کانفرنسی عہدیدار اور کارکن اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ چونکہ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور قتل ہونے والے کارکن کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے اس لئے منصفانہ بنیادوں پر تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔ اس تاثر کو زائل ہونا چاہئے اور قاتل کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔