Daily Ausaf:: جنوبی افغانستان میں بڑے آپریشن کی تیاریاں
Updated at: Tuesday,09 February 2010
جنوبی افغانستان میں بڑے آپریشن کی تیاریاں
کابل…امریکا اور نیٹوافواج اس ہفتے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔ دوسری جانب طالبان بھی اس بڑی جنگ کے لئے تیار ہیں اور برطانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ میں اس کے فوجیوں کو زیادہ جانی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واشنگٹن میں امریکا کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ہماری بنیادی حکمت عملی یہ ہے کہ طالبان کی قوت کو توڑا جائے۔ صوبہ ہلمند کی اس کارروائی میں 15ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی حصہ لیں گے۔ اس حملے کو 40سال قبل ویت نام جنگ کے بعد سب سے بڑا آپریشن کہا جا رہا ہے، جس میں 1991 کی خلیج کی جنگ کے بعد سب سے بڑی فضائی کارروائی بھی کی جائے گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران یہ سب سے بڑا حملہ ہوگا۔ امریکی اور نیٹو حکام نے حملہ کی تاریخ تو نہیں بتائی ہے تا ہم ان کا کہنا ہے کہ وسطی ہلمند کے سب سے خطرناک علاقے میں حملے ایک ہفتے میں شروع ہوسکتے ہیں۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے تصدیق کی ہے کہ کارروائی جلد ہوگی۔ دوسری جانب طالبان بھی اس جنگ کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں۔ علاقے سے مقامی آبادی کا انخلاء شروع ہوگیا ہے۔ طالبان کمانڈرز کاکہنا ہے کہ امریکا کی کسی بھی کارروائی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور امریکی فوج کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مرجح کا علاقہ نہیں چھوڑیں گے۔ علاقے کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ طالبان بہت سرگرم ہیں اورمرجح اور ملحقہ علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں۔ ضلع نادِ علی میں طالبان کمانڈرعبد اللہ نصرت کا کہنا ہے کہ دو ہزار جنگ جو جنگ کے لیے تیار ہیں اور موت تک لڑیں گے۔ ادھر برطانیہ نے اپنے شہریوں کو اس جنگ کے خلاف ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ میں برطانوی فوجیوں کو بڑا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع بوب اینزورتھ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو افغانستان میں نقصانات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کو خطرے سے خالی نہیں کہا جاسکتا۔ ہلمند میں ہونے والے مشترک آپریشن میں 9ہزار 5 سو برطانوی فوجی بھی حصہ لیں گے۔