پاکستان اور بھارت میں مغربی دریائوں کے پانی کے زرعی استعمال پر نیا تنازعہ پیدا ہوا ہے اور پاکستان نے دریائے چناب پر پمپوں کے ذریعے براہ راست پانی نکالنے کا عمل بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے واٹر کمشنر سید جماعت علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت نے پہلے ہی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف دریائوں پر ڈیم بنائے ہیں اب اگر بھارت نے دریائے چناب کا پانی زرعی مقاصد کیلئے استعمال کیا تو پاکستان کی طرف بہائو ساڑھے تین لاکھ ایکڑ فٹ مزید کم ہوگا اور خشک سالی کے دنوں میں کمی شدت اختیار کر جائے گی۔
بھارت جغرافیائی اور نظریاتی جنگوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسی جنگ کا آغاز کرچکا ہے جس کے نتائج بھیانک نظر آرہے ہیں۔ بھارت اقتصادی طور پر پاکستان کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کی یہ باتیں سچ ثابت ہو رہی ہیں کہ آئندہ جنگیں صرف پانی کے مسئلے پر ہوں گی۔ بھارت جہاں دریائے جہلم اور سندھ کے پانیوں کو زرعی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے وہاں سینکڑوں آبی ذخائر کے ذریعے اس منصوبے پر عمل پیراہے کہ پاکستان کو پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترسایا جائے۔ یہ اس قدر خطرناک صورتحال ہے کہ اگر بروقت اس کا ادراک نہ کیا گیا تو پاکستان ایک خطرناک بحران میں گھر جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کی اس آبی جارحیت کو روکنے کیلئے حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرکے ایک ایسا لائحہ عمل طے کرے جس سے عالمی برادری کو آگاہ کیا جائے کہ وہ بھارت کی آبی جارحیت روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔