Updated at:  Saturday,31 July 2010
نوید مسعود ہاشمی  کے مزید کالم
 
اے مارگلہ کی پہاڑی چٹانوں...
رب العالمین سورہ نساء میں ارشاد فرماتے ہیں کہ'' تم چاہے کہیں بھی ہو وہاں ہی موت تم کو آدبائے گی.... اگرچہ تم قلعی' چونے ( سمنٹڈ) قلعہ میں ہی ہو''.... سورة الا اعراف کی آیت نمبر 37 میں ارشاد خداوندی ہے۔ '' سو جس وقت ان کی معیاد معین آجائے گی اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے''.... ان آیات مبارکہ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ 28 جولائی کی صبح مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر اپنے 152 مسافروں سمیت ٹکڑوں میں بٹ جانے والا طیارہ مشیت ایزدی کے عین مطابق تھا.... 152 انسانوں کا مشیت خداوندی کے مطابق وقت پورا ہو چکا تھا۔.... موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ جس سے نہ تو کوئی ذی شعور انکار کرسکتا ہے اور نہ ہی اس سے فرار حاصل کر سکتا ہے.... اسی لئے تو سرکار دو عالمۖ نے ارشاد فرمایا تھا کہ '' لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو.... اس لئے کہ جو بھی اسے تنگی کے زمانے میں یاد کرے گاتو اس پر وسعت ہو گی.... اور اگر عافیت اور خوش حالی میں موت کو یاد کرے گا تو یہ اس پر تنگی کا باعث ہو گا.... ( یعنی موت کی یاد کیوجہ سے وہ خوشی کے زمانے میں آخرت سے غافل ہو کر گناہوں سے بچا رہے گا '' حضرت وضین ابن عطارفرماتے ہیں کہ رحمت دو عالمۖ جب لوگوں میں موت سے غفلت کا احساس جگاتے تو آپۖ حجرہ مبارک کے دروازے پر کھڑے ہو کر تین مرتبہ پکار کر درج ذیل کلمات ارشاد فرماتے....'' اے لوگو ! اے اہل اسلام ! تمہارے پاس ضرور با افروز مقررہ وقت میں موت آنے والی ہے' موت اپنے ساتھ ان چیزوں کو لائے گی جن کو وہ لاتی ہے وہ رحمان کے مقرب بندوں کیلئے جو جنتی ہیں اور جنہوں نے اس کیلئے کوشش اور اسکی رغبت کی ہے.... عافیت ' راحت ' اور بہت سی مبارک نعمتیں لے کر آئے گی.... خبردار ہو جائو ہر محنت کرنے والے کی ایک انتہا ہے.... اور وہ انتہا موت ہے' پہلے آئے یا بعد میں ''.... جمعرات کے دن قومی سطح پر سوگ منایا گیا.... لیکن نجانے میرے آنسو آج بھی تھمنے میں کیوں نہیں آرہے....؟ پوری قوم کی مائیں' بہنیں ' بیٹیاں ' بوڑھے' جوان ' بچے ایک ان دیکھے دکھ میںمبتلا ہیں.... خدایا یہ اچانک کیا ہو گیا.... این ڈی ایم کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد کہتے ہیں کہ بدقسمت طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے ساتھ اس خوفناک انداز کے ساتھ ٹکرایا کہ وہ ٹکڑوں' ٹکڑوں میں بکھر گیا.... جہاز کے انجن سمیت کوئی چیز بھی پوری نہیں مل سکی.... تباہ ہونے والے جہاز کے مسافروں کی لاشوں کا جو درد ناک منظر مارگلہ ہلز پر دیکھا ہے.... ایسے خوفناک مناظر فوجی اور سول زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے.... مرنے والے مردوں اور عورتوں نے اپنے اپنے بچوں کو موت کا منظر دیکھ کر اپنے سینوں سے چمٹایا اور کئی بچے موت کے بعد بھی اپنے والدین کی بانہوں سے لپٹے ہوئے تھے .... اور مسافروں کی لاشوں کی یہ حالت تھی کہ ہر ایک مسافر کی لاش کئی کئی ٹکڑوں میں تقسیم اور ان کی انتڑیاں پہاڑی علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں''.... جنرل (ر) ندیم احمد نے اپنے انٹرویو میں جو حقائق بیان کئے ہیں.... بعض عینی شاہدین کے مطابق مارگلہ کی پہاڑیوں پر حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک تھے.... یا اللہ میری پوری قوم پر اپنا خصوصی فضل اور رحم نازل فرما.... اللہ ہم تیرے عاجز اور کمزور بندے ہیں اگر ایسی خطرناک آزمائش میں مبتلا کیا ہے تو ہمیں اس آزمائش میں پورا اترنے کی توفیق عطا فرما.... یا اللہ ہم تجھ سے تیرا فضل مانگتے ہیں.... ہمیں ہر حال میں اپنے لاڈلے رسول ۖ کی مبارک سنتوں کی پیروی کرنے کی سعادت نصیب فرما.... یا اللہ 152 انسانوں کو ٹکڑوں اور گوشت کے لوتھڑوں میں تبدیل کرنا تیری مشیت تھی تو ہم عاجز بندے تیری اس مشیت پر مکمل راضی ہیں.... لیکن کیا کریں ہم تیرے عاجز' مسکین اور نادار بند ے ہیں اسلئے انسانی جسموں کے لوتھڑے اور ٹکڑے دیکھ کر ہمارے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں.... ہماری آنکھوں کے آنسو خشک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے.... ہمیں کسی کل چین ہی نہیں آرہا.... ہماری آنکھوں میں نوبیاہتا جوڑے کی بے بسی والی کیفیت جم کر رہ گئی ہے.... یوتھ پارلیمنٹ کے کڑیل شہزادے اتنی بے بس موت کا شکار ہو جائیں گے.... ان کے گھر والوں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا .... مولانا نواب الحسن کا باریش چہرہ ' مسافروں کی خدمت پر مامور ائیرہوسٹس شہزادیاں .... تباہ شدہ طیارے کے مسافروں کے دلوں میں نجانے کون کون سے ارمان ہونگے؟ واہ ربا واہ تیری قدرتوں پہ قربان تو نے آناً فاناً سب کے ارادوں کو مارگلہ کی پہاڑیوں پر بکھیر کے رکھ دیا.... اب لواحقین.... اپنے کسی پیارے کو انگلیوں سے .... کسی کو پیٹ پر لگے نشان سے .... کسی کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد پہچان کر ان کے تابوتوں کو منوں مٹی تلے دفن کر رہے ہیں' یا اللہ اگر تو نے اتنے بڑے صدمے سے نوازا ہے تو پھر تو ہی مرنے والے لواحقین کو صبر جمیل اور نعم البدل عطا فرما آمین ۔ آج اس عظیم سانحے کو گزرے 72 گھنٹے گزر چکے ہیں.... اور میں سوچ رہا ہوں اگر میرا پروردگار مارگلہ کی پہاڑیوں کو زبان عطا فرماتے تو میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے پوچھتا کہ جس وقت ہمارے 152 ' پھول ' ہیرے اور یاقوت تمہارے دامن میں بکھر رہے تھے تو انکے جذبے کا عالم کیا تھا....؟ یقینا مارگلہ کی پہاڑیاں زبان حال سے یہ جواب دینے پر مجبور ہو جاتیں.... کہ ہمارے پتھروں اور چٹانوں نے جہاز اور اسکے مسافروں کے تو ٹکڑے کر دئیے ' مگر ہمارے پتھروں اور چٹانوں سے وہ مائیں زیادہ مضبوط نکلیں کہ جو مرتے مر گئیں.... لیکن انہوں نے مرنے کے بعد بھی اپنے معصوم '' شہزادوں'' کو اپنے جسموں سے جد اکرنا گوارہ نہ کیا.... مارگلہ کی پہاڑی چٹانوں تم جیت کر بھی ہار گئیں.... اور مائیں ٹکڑوں میں بٹ کر بھی جیت گئیں کیونکہ انہوں نے مر کر بھی ماں کی ممتا کو اتنا سربلند کر دیا کہ جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا....
 
Mehtab Publications Pvt (Ltd)
Copyright 2010 All rights reserved.