Updated at:  Thursday,15 July 2010
نوید مسعود ہاشمی  کے مزید کالم
 
چدم برم' عبد الرحمن ملک اور شہدائے کشمیر کانفرنس
جس وقت مظفر آباد میں شہدائے کشمیر کانفرنس کے شرکاء مقبوضہ کشمیر کے شہیدوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کر رہے تھے کہ ''کشمیر کی آزادی کے نامکمل ' عظیم اور بامقصد مشن کو تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہر سطح اور ہر محاذ پر جدوجہد جاری رکھیں گے … اور ان کے مقدس لہو سے کسی کو بھی بے وفائی اور غداری کرنے کی اجازت نہیں دیں گے … عین اسی وقت مجھے مصدقہ ذرائع نے یہ اطلاع دی کہ ''بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت پاکستانی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک کو بھارتی مٹھائیوں اور آموں کا تحفہ بھجوایا … اور یہ تحائف منگل کے دن پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر نے اپنی ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کے حوالے کئے … سوال یہ ہے کہ جس بھارت کی سات لاکھ سے زائد مسلح فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد انسانوں کو گزشتہ کئی دہائیوں سے یرغمال بناکر اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رکھا ہے … اس کے وزیر داخلہ چدم برم کی طرف سے بھارتی مٹھائیوں اور آموں کے بھیجے جانے والے ان تحائف کا کیا مطلب لیا جائے ؟ چدم برم کی طرف سے خیر سگالی جذبات اور وہ بھی عبد الرحمن ملک کیلئے … آخر یہ معمہ کیا ہے؟ یاد رہے کہ جناب عبد الرحمن کی ذاتی کوئی حیثیت نہیں ہے ان کو اگر آج دنیا میں کہیں کوئی مقام حاصل ہے تو وہ ''پاکستان'' کی وجہ سے ہے … اس پاکستان کی وجہ سے کہ جس پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے … اس پاکستان کی وجہ سے ہے جس پاکستان کے ایک وزیر اعظم کے جو عبد الرحمن ملک کی پارٹی کے بانی بھی ہیں یعنی ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ اگر ہمیں ہزار سال تک کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنا پڑی تو ہم لڑیں گے … عبد الرحمن ملک اس پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں کہ جس پاکستان کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر کا کوئی نہ کوئی نوجوان جہاد کشمیر کو اپنے لہو سے سینچ چکا ہے … آج بھی اگر کوئی سرینگر ' لولاب ' بارہ مولا' جموں یا وادی کے قبرستان میں جائے تو اسے ایسے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کی قبور وہاں نظر آئیں گی کہ جو کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑتے ہوئے بھارتی درندوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرکے کشمیر کی مٹی کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ کیلئے وہیں سوگئے… میں ان سینکڑو پاکباز پاکستانی مائوں ' بہنوں ' بیٹیوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جن کو اپنے بیٹوں یا بھائیوں کی کشمیر میں شہید ہونے کی جب اطلاع ملی تو وہ بے اختیار الحمد اللہ کہتے ہوئے سجدے میں سر رکھ کر آنسو بہانے پر مجبور ہوگئیں … میں ان عفت مآب مائوں کو بھی جانتا ہوں کہ جن کے بیٹے کشمیر میں شہید ہوئے … تو انہوں نے اپنے ساتھ تعزیت کرنے کیلئے آنے والوں سے کہا کہ ''خبردار مجھ سے تعزیت مت کرنا کیونکہ ہمارے بیٹے ''مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں'' میں ملتان کی اس بوڑھی اماں کو بھی جانتا ہوں کہ جس کے دو بیٹے جہاد کشمیر میں شہید ہوئے تو اس نے درجنوں دیگیں پکوا کر رشتے داروں اور قرب و جوار کے سینکڑوں لوگوں کی دعوت کا اہتمام کر ڈالا … کئی سال قبل میں اس دعوت میں شریک ہونے کیلئے ملتان اس اماں جان کے گھر پہنچا تو بجلی کے قمقموں نے پورے محلے کو بقعہ نور بنا رکھا تھا … سینکڑوں مرد و خواتین علیحدہ علیحدہ حصوں میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے … تھوڑی دیر بعد کھانا چنا جانا تھا … میں اپنے دوست کے تعاون سے میزبان ''اماں جان'' کی خدمت میں پہنچا اور انہیں دو کڑیل جوان بیٹوں کی شہادت پر مبارکباد پیش کرنے کے بعد کہا کہ اماں آپ نے یہ خصوصی اہتمام کیوں کر ڈالا ؟… انہوں نے شکوہ بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور یوں گویا ہوئیں … کیا مجاہد کا شہید ہونے کے بعد 72 حوروں سے نکاح نہیں کر دیا جاتا ؟ میں نے کہا کہ رسول رحمت ۖ کے فرمان کے مطابق مسئلہ تو یہی ہے … فرمانے لگیں کہ میرے دو بیٹے شہید ہوئے ہیں کیا مجھے اتنا بھی حق نہیں ہے کہ میں اپنے بیٹوں کی دعوت ولیمہ کرسکوں …؟ سبحان اللہ … آج این آر او زدہ حکمرانوں 'سرمایہ داروں ' جاگیرداروں ' چٹی دلالوں … کرپٹ جرنیلوں ' سیاست اور بیورو کریٹس میں شامل بڑے بڑے مگرمچھوں کی تمام تر لوٹ کھسوٹ ' مالی بدعنوانیوں ' ظلم و تشدد اور غداریوں کے باوجود اگر پاکستان اپنی جگہ قائم و دائم اور مضبوط ہے تو وہ انہی عفت مآب مائوں ' بہنوں اور بیٹوں کے دم قدم اور دعائوں کے مرہون منت ہے … جموں و کشمیر شہداء فائونڈیشن کے زیراہتمام یونیورسٹی گرائونڈ میں منعقد ہونے والی شہداء کشمیر کانفرنس کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ''کانفرنس جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس لاکھوں غاصب بھارتی فوجیوں کے مقابل بے سروسامانی کی حالت میں سینہ سپر مجاہدین جموں و کشمیر کی مثالی جدوجہد کو خرا ج تحسین پیش کرتی ہے … اور ان مجاہدین کو دہشت گرد باور کرانے کے بھارتی دعوئوں اور پراپیگنڈا کو عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قراردے کر پرزور طریقے پر اس دلیل کے ساتھ مسترد کرتی ہے کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے دہشت گرد نہیں بلکہ قومی ہیرو ہوتے ہیں … اعلامیے میں تقسیم کشمیر ' مشترکہ کنٹرول ' داخلی خودمختاری اور بھارتی آئین کے تحت نام نہاد انتخابات سمیت دیگر تمام نامعقول فارمولوں کو سختی کے ساتھ مسترد کرتی ہے اور واضح کرنا چاہتی ہے کہ ''کچھ لو اور کچھ دو'' کی بنیاد پر کسی بھی غیر حقیقی حل کو قوم کی مثالی جدوجہد اور لاکھوں شہیدوں کے خون سے بے وفائی اور بھونڈا مذاق قرار دیکر اسے پایہ حقارت سے ٹھکرانے کااعلان بھی کیا گیا… شہدائے کشمیر کانفرنس کا اعلامیہ یقینا اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کی آواز ہے … لیکن کیا پاکستان کے حکمران بھی شہدائے کشمیر کے لہو سے مخلص ہیں …؟ جہاد کشمیر کے قائدین کو اس سوال کا جواب فی الفور تلاش کرکے تحریک کشمیر کو نئے ولولوں اور نئی بنیادوں پر استوار کرنا پڑے گا… مجھے چدم برم سمیت بھارتی حکمرانوں کی منافقانہ چالوں پر رتی برابر بھی شک نہیں ہے … لیکن یہ بات بھی اس دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ بھارتی حکمران اپنی منافقانہ اور شاطرانہ چالوں میں آہستہ آہستہ کامیاب ہوتے جارہے ہیں … جس بھارت کے درندہ نما فوجیوں نے کشمیر کے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں ' بوڑھوں اور بچوں کا خون بہایا ہے … جس بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی ہزاروں عفت مآب بیٹیوں کی حرمت کو پامال کرکے ذلت اور رسوائیوں کے باب رقم کیے ہیں … جس بھارت کی جیلوں میں آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہزاروں نوجوان آزادی مانگنے کے جرم کی سزا بھگت رہے ہیں … جس بھارت نے پاکستان کے دریائوں کا پانی بند کرکے پاکستانی عوام کو پانی کی بوند بوند کا محتاج بنا دیا ہے … جس بھارت کی مسلح فوج آج بھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر قیامت خیر مظالم ڈھا رہی ہے … اس بھارت کے وزیر داخلہ چدم برم کی طرف سے بھیجی جانے والی مٹھائیوں اور آموں کی پیٹیوں کو نجانے عبد الرحمن ملک نے کیا سمجھ کر قبول کرلیا؟ … اگر جناب عبدالرحمن ملک ان مٹھائیوں کو کھانے سے قبل اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی آنکھوں اور قائداعظم محمد علی جناح کے دل کی روشنی میں غور سے دیکھتے اور سونگھنے کی کوشش کرتے تو انہیں ضرور یہ بات محسوس ہوتی کہ ان مٹھائیوں کو کشمیری شہداء کے لہو ملے ہوئے تیل میں پکایا گیا ہوگا؟ … کیا چدم برم کی مٹھائیاں اور آم جناب عبد الرحمن ملک کو ہضم ہو جائیں گئے…؟ اس سوال کا جواب آئندہ کبھی سہی؟


 
Mehtab Publications Pvt (Ltd)
Copyright 2010 All rights reserved.